’ جے ایس آر ‘ نعرہ کیلئے اسلحہ کا استعمال ، تین زخمی مزدور زیرعلاج

,

   

بیوار/3 جولائی:(ایجنسیز) راجستھان کے بیوار ضلع میں تین مسلم مزدوروں کو مبینہ طور پر اغوا کرکے پوری رات یرغمال بنایا گیا، شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور بندوق کی نوک پر ’جے شری رام‘ (جے ایس آر) کا نعرہ لگانے پر مجبور کیا گیا۔راجستھان میں بی جے پی کی اقتدار پر واپسی کے بعد شرپسند عناصر کی ہمت بڑھ گئی ہے۔متاثرین میں ساجد خان، ان کے بھائی جنید اور بھتیجے ساحل شامل ہیں۔ پولیس میں درج شکایت کے مطابق، تینوں کو جھوٹھا گاؤں میں مکلیش مالی کی کان میں ایک مشین کی مرمت کے لیے بلایا گیا تھا۔ رات تقریباً ایک بجے کام مکمل ہونے کے بعد جب انہوں نے اپنی مزدوری طلب کی تو انہیں اگلے دن آنے کو کہا گیا۔شکایت کے مطابق، واپسی کے دوران مکلیش مالی چار سے پانچ افراد کے ساتھ ایک ایس یو وی میں آیا اور تینوں کو زبردستی گاڑی میں بٹھا لیا۔ متاثرین کا الزام ہے کہ انہیں گالیاں دی گئیں، دھمکیاں دی گئیں اور پوری رات لوہے کی پائپوں، ڈنڈوں اور بیلچے کے دستوں سے مارا پیٹا گیا۔ساجد خان نے اپنی شکایت میں کہا کہ ملزمین نے انہیں مذہبی بنیاد پر نشانہ بنایا اور کہاکہ ہم ہندو ہیں، تم مسلمانوں کو مار ڈالیں گے۔’’ اس دوران انہیں بندوق دکھا کر’جے شری رام‘ کا نعرہ لگانے پر مجبور کیا گیا۔ جنید کے مطابق، تشدد کے دوران ان کے بال کھینچے گئے جس سے شدید خون بہنے لگا۔ متاثرین نے یہ بھی الزام لگایا کہ ان کے موبائل فون توڑ دیے گئے اور انہیں رابطہ کرنے سے روک دیا گیا۔ شکایت میں کہا گیا ہے کہ ابتدائی طبی معائنہ مکمل نہیں تھا کیونکہ متاثرین کے جسم کے حساس حصوں پر بھی چوٹیں آئی ہیں، جس کے باعث میڈیکل بورڈ سے دوبارہ معائنہ کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ تینوں زخمی اس وقت امرت کور اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ پولیس نے اس معاملے میں بھارتیہ نیایا سنہتا (BNS) کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے، جن میں غیر قانونی اجتماع، جان بوجھ کر توہین، جسمانی نقصان پہنچانا، اغوا، غیر قانونی حراست اور شرارت کی دفعات شامل ہیں۔ متاثرین کے نمائندے رحمت کٹھات کے مطابق، پولیس نے تین ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے، تاہم مرکزی ملزم مکلیش مالی اب بھی فرار ہے۔ متاثرین نے یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ ابتدائی طور پر پولیس نے ان کی شکایت پر فوری کارروائی نہیں کی۔