اساتذہ بھرتی : چیلنج کرنے والی درخواستوں کی ہائیکورٹ سماعت کریگا؟

   

3 اپریل کو سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کی اعلامیوں کے ذریعہ خلاف ورزی کا الزام

کولکاتہ۔ 4 جون ۔ ( یو این آئی ) کلکتہ ہائی کورٹ ویسٹ بنگال سیکنڈری اسکول سروس کمیشن (ڈبلیو بی ایس ایس سی) کی جانب سے سرکاری امداد یافتہ اسکولوں میں تدریسی اور غیر تدریسی عملے کے 44,000 سے زائد خالی جائیدادوں پر بھرتی کے لیے درخواستوں کی نئی نوٹیفکیشن جاری کرنے کو چیلنج کرنے والی درخواستوں پر سماعت کر سکتا ہے ۔ واضح رہے کہ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے دو دن قبل میڈیا کو بتایا تھا کہ نویں اور دسویں جماعت کے اساتذہ کے لیے اضافی 11,517 جائیدادیں ، گیارہویں اور بارہویں کے اساتذہ کے لیے9,912 جائیدادیں اور گروپ سی اور ڈی لیول پر 1,571 جائیدادیں ایک ہی سلیکشن پروسیس کے لیے بنائی گئی ہیں۔ کل ملا کر 44,000 سے زائد جائیدادیں بھری جانی ہیں، جن کے لیے عمل 31 دسمبر سے پہلے مکمل ہونا چاہیے ۔ڈبلیو بی ایس ایس سی نے مئی میں ریاستی امداد یافتہ اسکولوں کے لیے 35,726 اساتذہ کی بھرتی کے لیے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔ اس سے قبل سپریم کورٹ نے اساتذہ کی خالی جائیدادوں کو پُر کرنے کے لیے 31 مئی تک نوٹیفکیشن جاری کرنے کی ہدایت دی تھی۔ ڈبلیو بی ایس ایس سی کی ویب سائٹ پر شائع نوٹیفکیشن کے مطابق، سیکنڈری اور ہائر سیکنڈری اسکولوں میں نویں اور دسویں جماعت کے لیے 23,312 اساتذہ اور گیارہویں اور بارہویں جماعت کے لیے 12,514 اساتذہ کی بھرتی کی جانی ہے ۔عدالتی ذرائع نے بتایا کہ جسٹس پارتھا سارتھی مکھرجی کے سامنے درخواستوں کا ایک سیٹ دائر کیا گیا تھا، جنہوں نے درخواستوں کو منظور کیا، جو جمعرات کو پہلی سماعت کیلئے آ سکتی ہیں۔ درخواست گزاروں میں سے ایک لبانہ پروین نے الزام لگایا کہ نوٹیفکیشن نے تین اپریل کو سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کی خلاف ورزی کی ہے ، جن میں مبینہ طور پر نوکریوں کے لیے نقد رقم کے بدلے 2016 کے پورے پینل کو منسوخ کر دیا گیا تھا اور 31 دسمبر تک نئی تقرری کے لیے ہدایت دی گئی تھی، جس کے لیے 31 مئی تک ایک نوٹیفکیشن جاری کیا جانا تھا۔یاد رہے کہ اساتذہ بھرتی میں گھوٹالہ معاملہ کافی عرصہ سے زبان زد خاص و عام ہے اور اساتذہ نے بھی ہمت نہ ہارتے ہوئے اپنی کوششیں جاری رکھیں اور عدلیہ پر پورا اعتماد دکھاتے ہوئے اپنے مسائل پیش کئے ۔