روش کمار
آج کل ہندوستان میں اساتذہ برادری کی توہین کو لیکر مباحث جاری ہیں۔ ٹیچرس یا اساتذہ کو کوئی ملک و قوم کا اثاثہ قرار دے رہا ہے تو کوئی اُنھیں دو کوڑی کے اساتذہ کہہ کر ذلیل کرنے کی کوشش کررہا ہے لیکن بات کسی کو کوڑی یا دو کوڑی کہنے کی نہیں ہے ۔ ویسے وائرل ویڈیو میں گودی میڈیا کی ایک اینکر نے دو کوڑی کا نہیں کہا مگر انٹرنیٹ میں دو کوڑی دو کوڑی ہی چلایا جارہاہے ۔ آن لائن کلاسس کے ذریعہ طلبہ کو زیور علم سے آراستہ کرنے والے اساتذہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کوڑی لفظ کااستعمال کیا گیا ۔ سب کو پتہ ہے کوڑی دو کوڑی کے حوالے کب دیئے جاتے ہیں ۔
اینکر نے کوچنگ کو مافیا کہدیا ظاہر ہے جو ٹیچر ہیں وہ مافیا کہے جانے کی مخالفت تو کریں گے ہی کرنا بھی چاہئے ۔ کوچنگ دینے والے مشہور و معروف اساتذہ نے جو باتیں کہی ہیں اُنھیں مزہ لینے یا بھڑاس نکالنے مت دیکھئے اس سے آگے بڑھئے اور دیکھئے کہ یہ اساتذہ کس طرح مودی حکومت کے دور میں حکومت، میڈیا کی آزادی ، اُس کی غلامی ، اُس کے مواد ، فیک نیوز اور عوام پر تبصرہ کررہے ہیں۔ انھوں نے اپنے جواب میں جو انداز اختیار کیا ہے ، الفاظ کا استعمال کیا ہے اُس میں آج کی حکومت اور میڈیا کی حقیقت کو آسانی سے دیکھ پائیں گے ۔ یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اساتذہ میں کچھ کہنے کیلئے کتنے عرصہ سے بے چینی دبی پڑی تھی ۔ بس موقع مل گیا تو اس میڈیا سے جس پر الزام لگتا ہے کہ اُس نے مودی حکومت سے پوچھے جانے والے ہر سوال کا گلا گھونٹا ہے ، حساب کرلیا ہے۔
ببیتا تیاگی نے دو کوڑی نہیں کہا کوڑی اور پھوٹی کوڑی سے تقابل کیا ۔ ایک ٹیچر کو اتنی باریکی کا خیال رکھنا ہی پڑتا ہے ۔ وہ کہتی ہیں ’’انجنا اوم کیشپ نے ٹیچرس کو کہدیا کہ یہ کوڑی کے ہیں ۔ تو انجنا اوم کیشپ کیلئے میں یہ دکھارہی ہوں اگر ٹیچرس کوڑی کے ہیں تو انجنا اوم کیشپ جیسے جو صحافی ہیں وہ پھوٹی کوڑی کے ہیں ، اُن کی کوئی عزت و وقار نہیں ہے ‘‘ ۔
بس ایک اینکر نے اُن ٹیچروں کو چھیڑدیا اور وہ باہر آکر بولنے لگے جیسے چیف جسٹس آف انڈیا کے ایک تبصرہ نے نوجوانوں کو چھیڑدیا اور کاکروچ جنتا پارٹی کے انسٹاگرام صفحہ پر دو کروڑ سے زیادہ فالوورس ہوگئے ۔ مگر اس بار کاکروچ کا ماسک پہن کر نوجوان نہیں بلکہ اپنا چہرہ لیکر کوچنگ کے اسٹار اساتذہ حاضر ہوگئے ۔ اس واقعہ کو آپ یا کوئی اور نظرانداز نہیں کرسکتا ۔ ہمیں لگتا تھا کہ فیک نیوز کے واقعات رونما ہوتے ہیں اور لوگ اُنھیں بھول بھی جاتے ہیں لیکن کتنے ہی اساتذہ نے اپنے ویڈیو میں گودی اینکروں کے فیک نیوز کو یاد کیا ہے ۔ نوٹ بندی سے لیکر حالیہ عرصہ فیک نیوز کو لیکر تبصرے کئے ہیں ۔ اس کا مطلب ہے کہ مودی حکومت کے دور کو لوگوں نے ٹھیک سے یاد رکھا ہے ۔
ہم نے کچھ اسٹار اساتذہ کے ویڈیوز کو پورا سنا یہ دیکھنے کیلئے کس طرح یہ لوگ اپنے موقف کو پیش کررہے ہیں ۔ ان کی باتوں کی بنیاد کیا ہے ؟ ان کی باتوں سے آج کے دور کی کیسی تصویر بنتی ہے ۔ ان کی تقاریر کو سن کر کئی ساری شکوک و شبہات ختم ہوجاتے ہیں ۔ پہلے سوچ و فکر کے بارے میں کہہ سکتے ہیں کہ گودی میڈیا اور واٹس ایپ یونیورسٹی کی مدد سے جس طرح غلامانہ سیاسی معاشرہ تشکیل دینے کی کوشش کی گئی ، مذہبی ، سیاسی سماج بنانے کی کوشش کی گئی وہ کوشش پوری طرح کامیاب نہیں ہوئی یعنی لوگوں کے پاس حکومت پر تنقید کیلئے صحیح الفاظ ، صحیح وقت اور موقع بھی موجود ہے جو اب نہ تو اخبار میں دکھائی دیتے ہیں اور نہ ہی گودی چیانلوں پر سنائی دیتے ہیں ۔
ایک ٹیچر نے کچھ اس طرح کہا ’’لوگ وزیرتعلیم سے استعفیٰ مانگنے لگے ہیں یہ چرچہ زوروں سے ہونے لگی ہے۔ ہر مقام پر ناکام ہوتے ہوئے سرکار کو جب سب سے بڑا چیلنج ٹیچروں سے محسوس ہونے لگا کیونکہ جتنے بھی ٹیچر تھے انھوں نے مختلف پلیٹ فارمس پر ایک ہی بات اُٹھائی اور وہ یہ تھی کہ NTA کی ذمہ داری طئے کرو ‘‘۔ ایک اور ٹیچر کہتی ہیں ’’یہ کچھ لوگ نہیں ہیں جو ہمیں فالو کرنے لگ جاتے ہیں ۔ یہ دیش ہے ہمارا اور یہ دیش یہی جو بیروزگار نوجوان ہیں اُن کے مسائل آپ نہیں اُٹھاتے جن کے مسائل سے کسی کو فرق نہیں پڑتا ۔ بیروزگاری سے آپ کو کوئی فرق نہیں پڑتا ہر روز Vacancies کم ہورہی ہیں ، آپ کو کوئی فرق نہیں پڑتا تو آپ حقیقی مسائل اُٹھاتے نہیں ہو اور اگر ہم اس بارے میں کہتے ہیں کہ ایسا ہونا چاہئے تو ہم لوگ فیک ہیں اور ہم صرف Views کیلئے ایسا کررہے ہیں‘‘ ۔ ایک بات ذہن نشین رکھئے کہ ٹیچر کے بغیر نہ ڈاکٹر بنتا ہے ، نہ انجینئر اور محترمہ ( انجنا کیشپ ) صحافی بھی نہیں بنتا ۔ دوسرے کہتے ہیں ’’کیونکہ یہ ٹیچرس آپ کی آواز بن رہے ہیں ، اُن کو تشویش ہے کہ اساتذہ کیوں آواز اُٹھارہے ہیں ، اُن کا بس چلے تو انھوں نے ویدانت جیسے طالب علم کو پاکستانی قرار دیا ہے ۔ سوچئے ایک بچہ جو OSM سسٹم کا شکار ہوا جس کی کاپی کو بدل دیا گیا اسے اُنھوں نے پاکستانی قرار دیا‘‘ ۔
اس ملک میں امتحانات نہیں ہوپارہے ہیں ۔ نیٹ یو جی کا پرچہ لیک ہوگیا۔ سی بی ایس ای جیسی قومی سطح کے بورڈ کی کاپی چیکنگ میں ہزاروں غلطیاں پکڑی گئیں ، اس پر کسی کو اپنا منہ کھولنا اور کچھ کہنا چاہئے تھا ۔ سی بی ایس ای کے اسکولوں کے اساتذہ کو ، پرنسپالوں کو اظہارِ خیال کرنا چاہئے تھا لیکن کسی نے بھی اپنے طلبہ کی پریشانی کو لیکر کچھ کہنے کی ہمت نہیں کی ۔ میڈیا میں آکر کسی نے یہ نہیں بتایا کہ ان کے طلبہ کتنے پریشان ہیں ، کتنے دنوں سے بحث چل رہی ہے ، اب جاکر مودی سرکار نے سی بی ایس ای کے صدرنشین اور سکریٹری کو اُن کے عہدہ سے ہٹایا ہے ۔ یہ کام پہلے دن کرنا چاہئے تھا ۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ سی بی ایس ای کے ایک حکم پر کتنے پرنسپلوں نے اس سٹم کی تعریف شروع کردی جس سے پریشان ہوکر اُن ہی کے 4 لاکھ طلبہ نے دوبارہ کاپی دیکھنے کی درخواست دی ۔ ایک طرف آپ ایسے ٹیچروں اور پرنسپالوں کو دیکھ رہے ہیں جو اپنے طلبہ کی پریشانیوں کو نظرانداز کرکے اس سسٹم کی تعریف کررہے ہیں اور دوسری طرف کوچنگ کے اساتذہ ہے جو اپنے طلبہ کیلئے اُن کی محنت کیلئے لڑ رہے ہیں ۔
اب چلتے ہیں سونے کی فروخت کی جانب ، جس طرح سے آر بی آئی نے سونا فروخت کرنے کی خبر کو غلط بتایا ہے اس سے شک اور بڑھ گیا ہے ۔ 2 جون کو بلومبرگ کی رپورٹ آئی اس دن کئی ویب سائیٹس پر خبر شائع ہوگئی اور 3 جون کے کئی اخبارات میں رپورٹس شائع ہوئیں تب جاکر وضاحت آئی کہ بلومبرگ کی رپورٹ غلط ہے اور پھر پریتی سونی کی رپورٹ پر فیک نیوز کا ٹھپہ لگادیا گیا۔ بلومبرگ نے ریزرو بینک آف انڈیا کی رپورٹ تو شائع کردی ۔ RBI کا صاف کہنا ہے کہ ریزرو بینک آف انڈیا کے سونے کے ذخائر میں کوئی کمی نہیں آئی اور سونا فروخت نہیں کیا گیا ۔ ساتھ ہی RBI نے ایک چارٹ بھی جاری کیا ہے جس پر 22 مئی 2026 ء کی تاریخ درج ہے اور اس چارٹ میں سونے کے ذخائر کا ریکارڈ ہے ۔ 24 اپریل 2026 ء تک کا اسے لیکر کئی لوگوں نے پوچھا ہے کہ RBI کا ڈیٹا پرانا ہے جب بلومبرگ نے 22 مئی تک کے ڈیٹا کی بات کی ہے تو RBI اپریل تک کا ڈیٹا کیوں دے رہاہے ۔ جس سونے کے فرق کی بات کی جارہی ہے اس کا ڈیٹا کیوں نہیں دیا گیا ؟ ایک ماہر کا کہنا ہے ہوسکتا ہے کہ RBI نے 12 ارب ڈالر کا سونا فروخت کیا ہو ۔