وزیرِ تعلیم مقرر کرنے پر کانگریس قائد کا سخت اعتراض
نئی دہلی۔28؍جولائی ( ایجنسیز) راہول گاندھی نے نئے مرکزی وزیرِ تعلیم پرہلاد جوشی کی تقرری پر سخت اعتراض کرتے ہوئے انہیں ریپسٹوں یعنی عصمت ریزی کے مجرموں کا محافظ قرار دیا ۔ انہوں نے وزیرِ اعظم مودی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ طلبہ کے احتجاج کے بعد ایسے شخص کو وزارتِ تعلیم کی ذمہ داری دینا حیران کن اور افسوسناک ہے۔پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے راہول گاندھی نے کہا کہ ملک بھر میں تعلیمی نظام اور امتحانی بے ضابطگیوں کیخلاف طلبہ نے احتجاج کیا، متعدد طالبات پر لاٹھی چارج کیا گیا لیکن حکومت نے نوجوانوں کے خدشات دور کرنے کے بجائے ایسے شخص کو وزیرِ تعلیم بنایا جو ریپسٹوں کا دفاع کرتا ہے۔ کانگریس قائد کا یہ بیان پرہلاد جوشی کے 2022 کے اس مؤقف کے تناظر میں سامنے آیا ہے جو انہوں نے بلقیس بانو اجتماعی عصمت ریزی کیس کے 11 سزا یافتہ مجرموں کی قبل از وقت رہائی کے بعد اختیار کیا تھا۔ اس وقت پرہلاد جوشی نے کہا تھا کہ مجرموں کی رہائی قانونی ضابطوں کے مطابق عمل میں آئی ہے اور قانون کے تحت سزا کا مقررہ عرصہ مکمل ہونے کے بعد رہائی کی گنجائش موجود ہوتی ہے۔