اسرائیلی حملہ میں حزب اللہ کامواصلاتی نظام مفلوج

   

بیروت : لبنان میں حزب اللہ کے عناصر کے پیجر آلات میں دھماکوں کے نتیجے میں سیکڑوں ارکان زخمی ہو گئے۔اس واقعے کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں جس میں اب تک 9 افراد ہلاک اور 3000 کے قریب زخمی بتائے جا رہے ہیں۔امریکی ویب سائٹ کے مطابق، اسرائیل نے لبنان میں حزب اللہ کے مواصلاتی نظام پر حملے سے پہلے امریکہ کو آگاہ نہیں کیامزید یہ کہ ان دھماکوں کی کارروائی کی منظوری رواں ہفتے ہونے والے دفاعی اجلاسوں کے دوران دی گئی۔ اجلاس میں وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو، سینئر حکومتی ارکان اور دفاعی اداروں کے سربراہوں نے شرکت کی۔اسرائیل نے مواصلاتی نظام کو دھماکے سے تباہ کیا تا کہ وہ حزب اللہ کے ساتھ اپنی لڑائی ایک نئے مرحلے میں لے جائے۔ذرائع کے مطابق، اسرائیل نے مواصلاتی نظام کو دھماکے سے تباہ کیا تا کہ وہ حزب اللہ کے ساتھ اپنی لڑائی ایک نئے مرحلے میں لے جائے امریکی ویب سائٹ کے مطابق، اسرائیلی کارروائی نے لبنان میں حزب اللہ کے عسکری کمان و کنٹرول کا نظام معطل کر دیا۔اسرائیلی ذمہ داروں نے axios ویب ساٹ کو بتایا کہ حزب اللہ کے ممکنہ رد عمل کے پیش نظر فوج انتہائی چوکنا حالت میں ہے۔حزب اللہ نے اسرائیل کو مواصلاتی نظام کو دھماکوں سے اڑانے کی ذمہ داری اسرائیل پر عائد کرتے ہوئے جوابی کارروائی کا عہد کیا ہے۔لبنان کے وزیر صحت فراس الابیض نے گزشتہ روز بتایا تھا کہ لبنان کے مختلف علاقوں میں ہونے والے پیجر دھماکوں کے نتیجے میں 9 افراد ہلاک اور 2800 سے زیادہ زخمی ہو گئے۔حزب اللہ کے قریبی ذریعہ نے بتایا کہ مرنے والوں میں حزب اللہ سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمان علی عمار کا بیٹا بھی شامل ہے۔