اسرائیلی فوج جنوبی لبنان سے نہ نکلی توحزب اللہ الجھن میں پڑ سکتی ہے

   

بیروت: لبنان میں کسی سرکاری فریق یا حزب اللہ کو ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا ہے کہ اسرائیل رواں ماہ 27 جنوری کو جنوبی لبنان کے سرحدی قصبوں میں بعض مقامات سے اپنی افواج واپس بلا لے گا۔ یہ بات سابق صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے ذریعے واشنگٹن کی سرپرستی میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان طے پانے والے معاہدے میں شامل ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کو موصول ہونے والی معلومات کے مطابق فائر بندی اور جنوبی لبنان میں قرار داد 1701 پر عمل کی نگراں کمیٹی کے ذمہ دار امریکی جنرل گیسپر جیفریزی لبنانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری کو یہ یقین دہانی نہیں کرا سکے کہ اسرائیلی فوج ان تمام بالائی مقامات سے نکل جائے گی جہاں وہ آخری جنگ کے دوران میں داخل ہو گئی تھی۔العربیہ ڈاٹ نیٹ نے لبنان کی امل موومنٹ اور حزب اللہ ملیشیا کے ذمے داران سے اسرائیل کے عدم انخلا کے بارے میں سوال کیا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ صورت حال لبنان کے جنوبی قصبوں میں رہنے والوں کی ایک بڑی تعداد کیلئے تنگی اور پریشانی کا باعث ہو گی۔لبنانی اداروں کو پہنچنے والی معلومات کے مطابق تل ابیب جنوبی لبنان سے اپنی فوج کے انخلا کیلئے کوئی سنجیدہ تیاری نہیں کر رہا ہے کیونکہ اس کا حیلہ ہے کہ اسرائیلی فوج سے مطلوب ذمہ داریاں ابھی تک پوری نہیں ہوئی ہیں۔