اسرائیلی فوج نے تاریخی ابراہیمی مسجد کو غیر معینہ مدت کیلئے بند کردیا

,

   

الخلیل ، 30 مئی (یو این آئی) اسرائیلی فوج نے الخلیل شہر میں واقع تاریخی ابراہیمی مسجد کو غیر معینہ مدت کیلئے بند کردیا اور نمازیوں کو بندوق کی نوک پر باہر نکال دیا۔ تفصیلات کے مطابق صہیونی فورسز کی جانب سے ایک اور اشتعال انگیزی سامنے آئی، اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے کے تاریخی شہر الخلیل میں واقع مسلمانوں کی تاریخی اور مقدس ترین ‘مسجدِ ابراہیمی’ کو غیر معینہ مدت کیلئے مکمل بند کر دیا ہے ۔ اس اقدام پر پورے فلسطین اور مقبوضہ مغربی کنارے میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے ۔ فلسطینی حکام نے بتایا کہ اسرائیلی فوج کے مسلح اہلکار اچانک مسجدِ ابراہیمی میں داخل ہوئے اور نمازیوں، انتظامی عملے اور محافظوں کو بندوق کی نوک پر زبردستی باہر نکال دیا۔ مسجد کو تالے لگا کر سیل کرنے کے بعد، اسرائیلی فوج نے مسجد کے اردگرد قائم تمام سیکیورٹی چیک پوائنٹس اور لوہے کے گیٹ بھی بند کر دیے ہیں تاکہ کوئی مسلمان وہاں تک نہ پہنچ سکے ۔ فلسطینی وزارتِ اوقاف نے اس اقدام کی مذمت کرکے اسے عبادت کی آزادی پر حملہ اور کھلی دہشت گردی قرار دیا اور کہا کہ اسرائیل اس بندش کی آڑ میں مسجدِ ابراہیمی کی تاریخی اور اسلامی حیثیت کو تبدیل کرنے کی مذموم تیاری کر رہا ہے ۔ مبصرین کے مطابق، اس جابرانہ ہتھکنڈے کا اصل مقصد الخلیل کے قدیم اور تاریخی شہر سے فلسطینیوں کو مکمل بے دخل کر کے سارے علاقے پر غاصبانہ کنٹرول حاصل کرنا ہے ۔ مسجدِ ابراہیمی پر تالے اور مسلمانوں کا داخلہ بند کرنے کے اسرائیلی فیصلے کے خلاف مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف شہروں میں شدید احتجاج شروع ہوگیا اور عوام میں شدید اشتعال پایا جاتا ہے ۔