اسرائیلی پولیس کا مسجد اقصیٰ میں نمازیوں پر بہیمانہ تشدد

,

   

اسرائیلی بربریت:زخمیوں کی یا اللہ یا اللہ کی صدائیں ۔ عرب لیگ کا ہنگامی اجلاس طلب

یروشلم: اسرائیلی پولیس نے آج مسجد اقصیٰ میں داخل ہوکر درجنوں نمازیوں پر حملہ کر دیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی پولیس کے مسجد اقصیٰ کے اندر داخلے پر فلسطینی شہری برہم ہو گئے اور سکیورٹی فورسز سے جھڑپیں ہوئی جن میں کئی فلسطینی زخمی ہو گئے۔اسی دوران حماس نے فلسطینیوں سے مسجد اقصیٰ پہنچنے کی اپیل کی جس کے بعد فلسطینی خواتین اور بچوں کی کثیر تعداد مسجد اقصیٰ پہنچ گئی۔اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں یہ کارروائی لاٹھیوں اور پتھر سے لیس برہم افراد کے کمپاؤنڈ میں داخل ہونے پر کی۔اسرائیل نے غزہ سے کئی راکٹ فائر ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ اس کے کئی شہروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔عینی شاہدین کے حوالے سے میڈیا میں نشر خبروں میں دکھایا گیا ہے کہ ایک بزرگ خاتون نے بتایا کہ وہ قرآن پاک کی تلاوت کر رہی تھی۔ اس دوران اسرائیلی پولیس اندر گھس آئی اورگرینیڈ پھینکے، ان میں سے ایک ان کو بھی لگا جس کی وجہ سے انھیں سانس لینے میں شدید دشواری پیش آئی۔اس دوران سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے پولیس ملکیوں پر حملہ کررہی ہے جن میں اعتکاف میں بیٹھنے والے بھی شامل ہیں۔ تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ قرآن پاک کی بھی بے حرمتی کی گئی۔اسرائیلی فورسز کے مسجد اقصیٰ میں نمازیوں پر حملے کے بعد عرب لیگ نے ہنگامی اجلاس طلب کرلیا ہے۔اسرائیلی پولیس نے منگل اور چہارشنبہ کی درمیانی شب مقبوضہ بیت المقدس میں واقع مسلمانوں کے تیسرے مقدس ترین مقام مسجد اقصیٰ میں دھاوا بول کر درجنوں نمازیوں کو زخمی کر دیا ہے، جبکہ 350 سے زائد کو گرفتار بھی کرلیا۔ فلسطین کے سرکاری خبر رساں ادارہ ’وفا‘ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سکیورٹی فورسز اس وقت مسجد اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہوئیں جب سینکڑوں مسلمان رمضان المبارک کی شب عبادت میں مصروف تھے۔ فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے صحافیوں اور عینی شاہدین کے مطابق چہارشنبہ کی صبح غزہ کی پٹی سے اسرائیلی علاقے کی طرف کئی راکٹ فائر کیے گئے۔ صحافیوں نے کہا کہ انہوں نے تین راکٹ دور سے فائر ہوتے دیکھے جبکہ اسرائیلی فوج نے بتایا کہ غزہ کی پٹی کے ارد گرد کئی اسرائیلی شہری مراکز میں راکٹ کے وارننگ سائرن بجائے گئے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں نمازیوں پر تشدد دکھایا گیا جہاں پولیس مسجد کے اندر لوگوں کو مار رہی ہے۔ ویڈیوز میں یہ بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ فلسطینی مصلیوں کو ہاتھ اور پیر رسیوں سے باندھ کر مسجد اقصیٰ میں فرش پر اوندھے منہ لٹا دیا گیا ہے۔ ترکیہ ، اردن اور مصر نے بھی اس پرتشدد واقعے کی مذمت کرتے ہوئے الگ الگ بیانات جاری کئے ہیں۔ امریکی خبر رساں ادارہ اسوسی ایٹیڈ پریس کے مطابق تازہ ترین تشدد کے آغاز اور اس کی وجہ کے بارے میں فوری طور پر واضح نہیں ہوسکا ہے۔ ادھر اسرائیلی پولیس نے کہا کہ اس نے ’آتش گیر مادے، پتھروں اور لاٹھیوں‘ سے ’مسلح‘ نمازیوں کو نکالنے کیلئے طاقت کا استعمال کیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک اسرائیلی اہلکار ٹانگ پر پتھر لگنے سے زخمی ہوا تھا۔ اسرائیلی پولیس نے مزید کہا کہ اس چھاپے میں درجنوں افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ مقبوضہ بیت المقدس میں تازہ ترین تشدد نے فلسطینیوں میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ غزہ میں فلسطینی گروپ حماس نے بڑے مظاہروں کی اپیل کی ہے اور لوگ سڑکوں پر جمع ہو کر اسرائیل کی سرحد کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ واقعے کے بعد اسرائیلی فوج نے کہا کہ جنوبی قصبوں میں سائرن بجنے کے بعد غزہ سے اسرائیل کی جانب 9 راکٹ فائر کئے گئے۔ مقبوضہ مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس میں گذشتہ ایک سال کے دوران تشدد میں اضافہ دیکھا گیا ہے اور اس بات کا خدشہ ہے کہ رواں ماہ کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے کیونکہ مسلمانوں کے مقدس مہینے رمضان کے ساتھ یہودیوں کا تہوار فسح اور عیسائیوں کا تہوار ایسٹر بھی قریب ہیں۔ فلسطینی ہلال احمر نے کہا کہ مسجد اقصیٰ کے احاطے میں اسرائیلی پولیس کے حملے میں ربڑ کی گولیوں اور مار پیٹ سے ابتدائی طور پر سات فلسطینیوں کے زخمی ہونے کی اطلاع تھی۔ ہلال احمر نے مزید کہا کہ اسرائیلی فورسز اس کے طبی عملے کو مسجد تک پہنچنے سے روک رہی ہیں۔ اسرائیلی پولیس نے ایک بیان میں کہا کہ نقاب پوش آتش بازی، لاٹھیوں اور پتھروں سے ’مسلح‘ افراد مسجد کے اندر موجود تھے جس کی وجہ سے وہ کمپاؤنڈ میں داخل ہونے پر مجبور ہوئی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ جب پولیس اندر داخل ہوئی تو ان پر پتھراؤ کیا گیا اور مشتعل افراد کے ایک بڑے گروپ کی طرف سے مسجد کے اندر سے آتش بازی کی گئی۔ فلسطینی گروپوں نے نمازیوں پر اسرائیل کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے جرم قرار دیا ہے۔ فلسطینی صدر محمود عباس کے ترجمان نبیل ابو رودینہ نے کہا کہ ہم قابض طاقت کو مقدس مقام کی سرخ لکیر عبور کرنے کے خلاف خبردار کرتے ہیں جو ایک بڑے تصادم کا باعث بنے گا۔

ترکیہ کی مسجدِ اقصیٰ پر چھاپے کی مذمت
انقرہ : ترکیہ نے مقبوضہ مشرقی القدس میں اسرائیلی پولیس کی مداخلت،مسجد، اقصیٰ پر چھاپہ مارنے، متعدد فلسطینی شہریوں کو حراست میں لے جانے کے واقعہ کی مذمت کی ہے۔وزارت خارجہ نے مسجد الاقصیٰ پر اسرائیلی افواج کے حملوں اور اشتعال انگیزیوں کے حوالے سے بیان جاری کیا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ “ہم اسرائیلی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے مسجد اقصیٰ پر چھاپہ مارنے، قبلہ اول میں پناہ لینے والوں میں مداخلت اور متعدد فلسطینی شہریوں کو حراست میں لینے، حرم شریف کے تقدس اور تاریخی حیثیت کو پامال کرنے کی مذمت کرتے ہیں۔بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں مسجد اقصیٰ میں عبادت کرنے والوں کے خلاف یہ حملے کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھانے کا باعث بننے والے حملوں کو روکنے کی ضرورت ہے۔