تل ابیب : اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے اسرائیل کے دورے پر آئے امریکی ایلچی آموس ہوچسٹین کو مطلع کیا ہے کہ وہ اسرائیل۔ لبنان سرحد پر بنیادی تبدیلی چاہتے ہیں، جہاں حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کے درمیان باہمی بمباری جاری ہے۔نیتن یاہو نے ہوچسٹین کے ساتھ ملاقات کے دوران کہا کہ ”شمالی سرحد میں سلامتی کی صورتحال میں بنیادی تبدیلی کے بغیر بے گھر باشندوں کی واپسی ممکن نہیں ہو گی”۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل امریکی حمایت کی قدر کرتا ہے اور اس کا احترام کرتا ہے لیکن آخر میں وہ وہی کرے گا جو اس کی سلامتی کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔اس موقع پر اسرائیلی وزیر دفاع ’یو آو گیلنٹ‘ نیہوچسٹین کے ساتھ ملاقات کے دوران اعلان کیا کہ اسرائیل کے پاس لبنان کے ساتھ سرحد پر حالات کو مستحکم کرنے کے لیے حزب اللہ کے خلاف فوجی کارروائی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ وزارت دفاع کے پریس آفس نے ملاقات کے بعد کہا کہ گیلنٹ نے اس بات کی پر زور دیا کہ (لبنان۔ اسرائیل سرحد پر صورتحال کو طے کرنے کے بارے میں) کسی سمجھوتے تک پہنچنے کے امکانات معدوم ہوتے جارہے ہیں، کیونکہ حزب اللہ اپنے آپ کو حماس کے ساتھ منسلک کر رہی ہے اور جنگ ختم کرنے سے انکار کرتی ہے۔وزیردفاع نے اس سلسلے میں مزید کہا کہ شمالی اسرائیل کے باشندوں کے لیے اپنے گھروں کو واپس جانے کا واحد راستہ فوجی کارروائی ہے۔انہوں نے کہا کہ انہوں نے ہوچسٹین کے ساتھ (اسرائیل کی) شمالی سرحدوں پر سکیورٹی کی صورتحال کو تبدیل کرنے اور شمالی اسرائیل میں آباد بستیوں کے مکینوں کی ان کے گھروں کو واپسی کو یقینی بنانے کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔قبل ازیں سوموار کو وزیر دفاع یوآو گیلنٹ نے اپنے امریکی ہم منصب لائیڈ آسٹن کو بھی ایسا ہی ایک پیغام پہنچایا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ حزب اللہ کے ساتھ معاہدے تک پہنچنے کیلئے وقت ختم ہونے لگا ہے۔خیال رہے کہ سات اکتوبر 2023ء کو غزہ میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے حزب اللہ اور اسرائیل روزانہ کی بنیاد پر لبنان۔اسرائیل سرحد پر بمباری کا تبادلہ کرتے ہیں۔اس عرصے کے دوران لبنان میں کم از کم 623 افراد ہلاک ہوئے جبکہ فوج کے مطابق اسرائیل کی جانب 50 افراد مارے گئے۔
لبنان اور اسرائیل کے درمیان سرحد کے پار حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان تصادم کے نتیجے میں دسیوں ہزار لبنانی اور اسرائیلی بے گھر ہوئے ہیں