اسرائیل میں اپوزیشن لیڈرآئزنکوٹ کو تشکیل حکومت کی دعوت

,

   

نتن یاہو کو لگا زبردست دھکہ،عرب جماعتوں کی حمایت کا اہم رول ، اتحاد ثابت کرنے 28 دن کی مہلت

تل ابیب ۔ 8نومبر (ایجنسیز) اسرائیل کے صدر ہرزوگ نے نیتن یاہو کے حریف آئزن کوٹ کو حکومت بنانے کی دعوت دیدی۔ غزہ میں نسل کشی اور ایران جنگ چھیڑنے والے نیتن یاہو حکومت بنانے کی دوڑ سے باہر ہوگئے ہیں۔اسرائیلی اخبار کے مطابق اسرائیل کے صدر نے کہا ہیکہ اگر حکومت بنانے کی کوششیں ناکام ہوئیں تو کینیسٹ کو توڑ دیا جائے گا اور دوبارہ الیکشن کرائے جائیں گے۔نیتن یاہو نے مطالبہ کیا تھا کہ یونٹی گورنمنٹ بنائی جائے تاہم صدر نے یہ مطالبہ ماننے سے انکار کردیا۔حکومت بنانے کیلئے درکار ووٹ حاصل کرنے میں ناکام نیتن یاہو نے دعویٰ کیا تھا کہ اسلام پرستوں سے اپوزیشن کا اتحاد اسرائیل کے مستقبل اور سیکیورٹی کیلئے خطرات کا سبب بنے گا۔67 قانون سازوں نے آئزن کوٹ کی حمایت کی تھی جبکہ نیتن یاہو کو صرف 46 قانون سازوں کی حمایت حاصل ہوپائی تھی۔صدر کے اس فیصلہ کے اسرائیلی سیاست میں ایک اہم پیشرفت ہوئی ہے۔ اپوزیشن لیڈر اور سابق آرمی چیف گاڈی آئزن کوٹ کو حکومت بنانے کا موقع دیا گیا ہے۔ قبل ازیں صدر نے نیتن یاہو اور آئزن کوٹ سے علیحدہ ملاقات کی اور انہیں اپنے فیصلے سے آگاہ کیا۔ آئزن کوٹ کے پاس حکومت بنانے کیلئے 28 دن ہیں۔ اگر اس وقت کے اندر اتحاد نہیں بنتا تو اس میں مزید 14 دن کی توسیع کا امکان ہے۔ حالیہ اسرائیلی انتخابات میں کسی بھی اتحاد کو واضح اکثریت حاصل نہیں ہوئی۔ آئزن کوٹ کو اب تک پارلیمنٹ کے 67 ارکان کی حمایت حاصل ہو چکی ہے ۔ 120 رکنی پارلیمنٹ میں 61 ارکان کی اکثریت درکار ہوتی ہے اور آئزنکوٹ کے پاس مختلف سیاسی آپشنز موجود ہیں۔ کامیاب ہونے کی صورت میں وہ اس منصب پر فائز ہونے والے اس پس منظر کے پہلے یہودی وزیراعظم ہوں گے۔سابق آرمی چیف گادی آئزنکوٹ وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے سب سے مضبوط سیاسی حریف ہیں۔ اسرائیل کی تاریخ میں سب سے طویل عرصے تک بطور وزیر اعظم خدمات انجام دینے والے نیتن یاہو 27 اکتوبر کے انتخابات میں اپنے مذہبی اور قوم پرست اتحاد کی اکثریت کھونے کے بعد عہدہ پر برقرار رہنے کی تاحال کوششیں کررہے ہیں ۔اس سے قبل گادی آئزنکوٹ کی قیادت میں نیتن یاہو مخالف بلاک نے اْن عرب جماعتوں کے ساتھ اتحاد کرنے سے انکار کر دیا تھا جو انہیں کنیسٹ میں اکثریت دلا سکتی تھیں، تاہم نیتن یاہو اور ان کے انتہائی دائیں بازو کے اتحادیوں کی پالیسیوں سے ناراض عرب رہنماؤں نے صدر اسحاق ہرزوگ کے ساتھ ہونے والے طویل مذاکرات کے دوران پھر بھی آئزنکوٹ ہی کو نامزد کیا۔