اسرائیل نے اقوام متحدہ کے افراد کو رہا کر دیا

   

تل ابیب: اقوام متحدہ کے زیر انتظام امدادی ایجنسی ‘انروا’ نے تصدیق کی ہے کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی جانب سے حراست میں لیے جانے والے اقوام متحدہ کے ملازمین کو رہا کر دیا گیا ہے۔ اس سے قبل پیر کے روز اسرائیلی فوج نے اعلان کیا تھا کہ اس نے غزہ کے شمال میں اقوام متحدہ کی گاڑیوں کے ایک قافلے کو حراست میں لے لیا ہے۔اسرائیلی فوجی ترجمان کے مطابق حراست کا اقدام ان انٹلیجنس معلومات کی بنیاد پر کیا گیا جن میں کہا گیا تھا کہ قافلے میں کئی “مشتبہ فلسطینی” بھی موجود ہیں لہذا ان سے پوچھ گچھ کیلئے یہ اقدام کیا گیا۔ ترجمان نے مزید بتایا کہ یہ قافلہ بچوں کیلئے پولیو ویکسین لے کر نہیں جا رہا تھا بلکہ اس کا مقصد اقوام متحدہ کے افراد کا تبادلہ تھا۔دوسری جانب اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن ڈوجارک نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ واقعے کے حقائق کے تعین کیلئے کام کر رہے ہیں۔ انھوں نے واضح کیا کہ ادارے کیلئے اولین ترجیح ساتھیوں کی سلامتی ہے۔ادھر اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے پیر کے روز اعلان کیا کہ ادارے نے غزہ میں کسی بھی فائر بندی کی نگرانی کی پیش کش کی ہے۔ ایک غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کو انٹرویو میں گوتریس نے مزید کہا کہ یہ خیال کہ اقوام متحدہ غزہ کے مستقبل میں کوئی کردار ادا کر سکتی ہے خواہ اراضی کا انتظام سنبھال کر یا امن فوج فراہم کر کے یہ غیر حقیقی ہے۔ اس لیے کہ اس بات کا امکان نہیں کہ اسرائیل اقوام متحدہ کا کوئی کردار قبول کرے گا۔