اسرائیل پر حملوں سے متعلق ٹرمپ کی ایلون مسک سے بات چیت

   

واشنگٹن: سابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایلون مسک کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا ہیکہ اسرائیل توقع کر رہا ہیکہ آج رات یا کل اس پر سینکڑوں یا شاید ہزاروں میزائلوں سے حملہ کر دیا جائے گا۔ اگر بے حساب میزائل داغ دیے جائیں تو آئرن ڈوم نظام کو غرق کیا جا سکتا ہے اور وہ (اسرائیل) اپنا دفاع نہیں کرسکے گا۔ ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ (ہمارے) قیادت سے محرومی کے سبب ایران جیسے ممالک امریکہ کا احترام نہیں کر رہے ہیں … اور اگر کوئی یہودی امریکی صدارتی انتخابات میں کملا ہیریس کے حق میں ووٹ دے تو اسے دماغ کا معائنہ کرانا چاہیے۔سابق صدر ٹرمپ نے کملا ہیرس کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انھیں ’’بائیں بازو کی انتہا پسند جنونی‘‘ قرار دیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ کملااسرائیل کی انتہائی معاند ہیں … انھوں نے بائیں بازو کے ایک اسرائیل مخالف شدت پسند شخص کو اپنے نائب کے طور پر چْنا ہے۔ ٹرمپ کا اشارہ ٹیم والز کی طرف تھا۔مشرق وسطی پر جو بائیڈن اور کملا ہیرس کی انتظامیہ کے اثرات کے حوالے سے ٹرمپ نے باور کرایا کہ کملا اسرائیلیوں اور فلسطینیوں دونوں کیلئے بْری ہیں اور بائیڈن نے کچھ نا ممکن سا کر دکھایا ہے جس کے سبب فریقین ان کو ناپسند کرتے ہیں۔ٹرمپ نے جوہری صلاحیت رکھنے والے شر کے محور پر بھی روشنی ڈالی۔ ان کا اشارہ چین، روس، شمالی کوریا اور ایران کی جانب تھا۔سابق صدر کے مطابق انھوں نے چین کو آگاہ کر دیا ہیکہ اگر آپ نے ایران سے تیل خریدا تو پھر امریکہ کے ساتھ کوئی تجارت ہر گز نہیں کر سکیں گے۔اپنی مدت صدارت کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اس وقت ایران دیوالیہ تھا، اس کے پاس حماس اور حزب اللہ کیلئے مال نہیں تھا اور نہ دہشت گردی کے آلات کار کے واسطے مالی رقوم تھیں۔ 7اکتوبر کو حماس کے حملے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ٹرمپ نے واضح کیا کہ اگر وہ صدر ہوتے تو اسرائیل کبھی حملے کا نشانہ نہیں بنتا۔سابق صدر نے امریکہ میں خصوصی آئرن ڈوم بنانے سے متعلق اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس دنیا کا بہترین آئرن ڈوم ہو گا۔ ہمارے پاس آئرن ڈوم کیوں نہ ہو ؟ اسرائیل کے پاس ایک ہے ، ہمیں تحفظ کی ضرورت ہے۔