اسرو کو خانگی شعبہ کے حوالے کرنے یا اہمیت گھٹانے کی تردید

,

   

خلائی تحقیق کے شعبہ میں خانگی اداروں کی شمولیت آئندہ مراحل میں معاون ‘ اسرو کا ردعمل
چینائی 7 ستمبر (یو این آئی) ہندوستانی خلائی تحقیقی تنظیم اسرو نے خانگی شعبہ کے حوالے کرنے یا اس کی اہمیت کم کرنے سے متعلق خبروں کو مسترد کرکے انہیں مکمل بے بنیاد اور غلط قرار دیا۔ اسرو نے کہا کہ وہ قومی اور تزویراتی مشنز، خلائی سائنس و تحقیق، خلائی کھوج اور اہم و جدید خلائی صلاحیتوں کے شعبوں میں ہندوستان کا بنیادی ادارہ بدستور قائم رہے گا۔ایک بیان میں اسرو نے کہا کہ میڈیا کے بعض حلقوں میں اس کے مستقبل کے کردار کے حوالے سے کافی خبریں شائع ہوئی ہیں، جن میں یہ قیاس آرائیاں اور غلط معلومات بھی شامل ہیں کہ اسرو کو نجی شعبے کے حوالے کرنے یا اس کے کردار کو محدود کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ یہ دعوے مکمل بے بنیاد اور غلط ہیں۔اسرو نے کہاکہ ‘ہم واضح طور پر کہنا چاہتے ہیں کہ اسرو نہ تو نجی شعبے کو منتقل کیا جائے گا اور نہ اس کی اہمیت کم کی جائے گی۔اس نے کہا کہ اسرو جدید خلائی تحقیق اور ٹیکنالوجی کی ترقی، قومی و تزویراتی مشنز، خلائی سائنس و تحقیق اور جدید خلائی صلاحیتوں کیلئے ہندوستان کا بنیادی ادارہ بدستور رہے گا۔خلائی شعبے میں نجی اداروں کی شمولیت کا مقصد اسرو کے کردار کو کم کرنا نہیں ہے ۔ اس کا مقصد اسرو کو ہندوستان کے خلائی پروگرام کی اگلی نسل پر توجہ مرکوز کرنے کا موقع فراہم کرنا ہے ، جبکہ صنعت پختہ ٹکنالوجیز اور صلاحیتوں کو بڑے پیمانے پر ترقی دے گی۔ ادارے نے کہا کہ تبدیلی اسرو کی اہمیت میں نہیں بلکہ ہندوستان کے خلائی ماحولیاتی نظام کے حجم اور ڈھانچے میں آرہی ہے ۔اسرو نے کہا کہ 2020 سے شروع کی گئی خلائی شعبے کی اصلاحات اور انہیں اسپیس پالیسی 2023 کے ذریعے ادارہ جاتی شکل دینے کے ساتھ راست غیر ملکی سرمایہ کاری پالیسی میں بتدریج نرمی کا مقصد ہندوستان میں ایک وسیع، مضبوط اور عالمی سطح پر مسابقتی خلائی ماحولیاتی نظام تشکیل دینا ہے ۔اس کے تحت صنعت، اسٹارٹ اَپس اور تعلیمی اداروں کو خلائی شعبے کی پوری ویلیو چین میں حصہ لینے کے قابل بنایا جارہا ہے۔