اسلام قبول کرنے پر مسلم پسماندہ طبقے کے ریزرویشن کا حق خودبخود نہیں ملے گا،سپریم کورٹ کا ریمارک

   

نئی دہلی، 15 اکتوبر (ایجنسیز): سپریم کورٹ آف انڈیا نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہندو مذہب سے اسلام قبول کرنے والے افراد کو صرف مذہب تبدیل کرنے کی بنیاد پر مسلم پسماندہ طبقے (بیک ورڈ کلاس مسلم) کے ریزرویشن کا حق خودبخود حاصل نہیں ہوسکتا۔ عدالت نے کہا کہ کسی شخص کی سابقہ ذات یا برادری کی شناخت اسے اسلام قبول کرنے کے بعد مسلم برادری کی کسی مخصوص پسماندہ جماعت کا رکن نہیں بناتی۔سپریم کورٹ نے ٹاملناڈو حکومت کی جانب سے دائر اپیل مسترد کرتے ہوئے مدراس ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کے اس حکم کو منسوخ کردیا تھا جس کے تحت مختلف پسماندہ طبقات سے اسلام قبول کرنے والے افراد کو مسلم پسماندہ برادریوں کے سرٹیفکیٹ جاری کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔یہ فیصلہ جسٹس پرشانت کمار مشرا اور جسٹس شری چندر شیکھر پر مشتمل بنچ نے سنایا۔یہ تنازعہ ٹاملناڈو حکومت کے 9 مارچ 2024 کو جاری کردہ ایک حکمنامے سے متعلق ہے۔ اس حکم کے تحت پسماندہ طبقات (BC)، انتہائی پسماندہ طبقات (MBC)، ڈینوٹیفائیڈ کمیونٹیز (DNC) اور درج فہرست ذاتوں (SC) سے تعلق رکھنے والے ایسے افراد، جو اسلام قبول کرتے ہیں، انہیں مسلم پسماندہ طبقے کی سات تسلیم شدہ برادریوں میں سے کسی ایک کا سرٹیفکیٹ جاری کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ریاستی حکومت کا کہنا تھا کہ اس اقدام کا مقصد ایسے افراد کو ریزرویشن کی سہولت سے محروم ہونے سے بچانا ہے، جو مذہب تبدیل کرنے کے باوجود سماجی اور تعلیمی پسماندگی کا سامنا کرتے ہیں۔ حکومت نے یہ بھی دلیل دی کہ ہر شخص کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کی آئینی آزادی حاصل ہے اور مذہب تبدیل کرنے کی وجہ سے اسے سرکاری سہولتوں سے محروم نہیں ہونا چاہیے۔
تاہم، اس حکم کو عدالت میں چیلنج کیا گیا، جس کے بعد مدراس ہائی کورٹ نے اسے غیر قانونی قرار دے کر منسوخ کردیا۔ ٹاملناڈو حکومت نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی، لیکن سپریم کورٹ نے بھی اس معاملے میں حکومت کو راحت دینے سے انکار کردیا۔اس مقدمے کا تعلق ایک شخص سے ہے، جو ہندو مذہب میں پیدا ہوا تھا اور اس کا اصل نام پرماسوامی تھا۔ اس نے 2015 میں اسلام قبول کیا اور اپنا نام سمیر احمد رکھ لیا۔بعد میں اس نے مسلم لیبّائی برادری سے تعلق رکھنے کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے لیے درخواست دی، تاکہ اسے پسماندہ طبقے کے تحت ریزرویشن کی سہولت مل سکے۔متعلقہ تحصیلدار نے اس کی درخواست مسترد کردی۔ اس کے بعد اس شخص نے عدالت سے رجوع کیا اور ٹاملناڈو حکومت کے 9 مارچ 2024 کے حکمنامے کی بنیاد پر اپنے حق میں فیصلہ دینے کی درخواست کی۔یہ معاملہ بالآخر مدراس ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ تک پہنچا۔سپریم کورٹ نے کہا کہ کسی شخص کا مذہب تبدیل کرنا اور کسی مخصوص پسماندہ برادری کا رکن بننا دو الگ معاملات ہیں۔ اسلام قبول کرنے سے کوئی شخص خودبخود مسلم لیبّائی یا مسلم پسماندہ طبقے کی دیگر تسلیم شدہ برادریوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔عدالت کے مطابق، کسی برادری کو پسماندہ طبقہ تسلیم کرنے کے لیے قانونی شرائط اور متعلقہ سماجی شناخت کا ہونا ضروری ہے۔ محض سابقہ ذات یا پسماندگی کی بنیاد پر کسی شخص کو دوسری برادری کا رکن قرار نہیں دیا جاسکتا۔عدالت نے یہ بھی کہا کہ کوئی مذہبی ادارہ یا تنظیم اپنے طور پر کسی شخص کو سرکاری ریزرویشن کا اہل قرار نہیں دے سکتی۔ اس کا فیصلہ متعلقہ قانون اور مجاز سرکاری حکام کے ذریعے طے ہونے والی شرائط کے مطابق ہی کیا جاسکتا ہے۔