انتباہ ناکام ہو تو سپریم کورٹ کو کارروائی کرنی چاہیے: کرین جوزف

,

   

نئی دہلی، 14 اکتوبر(ایجنسیز): سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس کرین جوزف نے کہا ہے کہ آئینی اداروں اور جمہوریت کو لاحق خطرات کے پیش نظر عدالتوں کو محض تشویش ظاہر کرنے کے بجائے مؤثر کارروائی بھی کرنی چاہیے۔ انہوں نے سپریم کورٹ کو آئین کا نگہبان قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر انتباہات مطلوبہ نتائج برآمد کرنے میں ناکام رہیں تو عدالت کو اپنے اختیارات استعمال کرنے چاہئیں۔ کیرالا ہائی کورٹ چیمبرس کمپلیکس میں انڈین اسوسی ایشن آف لائرز کے زیر اہتمام انتخابی کمیشن کی آزادی سے متعلق ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس جوزف نے کہا کہ پارلیمنٹ اور عدالتیں جمہوریت کے تحفظ میں ناکام ہوں تو عوام کو پْرامن اور باخبر احتجاج کے ذریعے جمہوری اقدار کا دفاع کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ آئینی اداروں پر عوام کا اعتماد متزلزل ہونے کا تاثر موجودہ احتجاج کی ایک اہم وجہ ہے۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کے مطالبے اور ووٹر فہرستوں کی نظرثانی میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف دہلی میں جاری احتجاج کے تناظر میں انہوں نے انتخابی کمیشن کی آزادی کے تحفظ پر زور دیا۔ جسٹس جوزف نے مطالبہ کیا کہ انتخابی کمشنروں کی تقرری اور شرائطِ ملازمت کو آئین میں واضح تحفظ دیا جائے، تاکہ ان کی آزادی اور دیانت داری یقینی بنائی جاسکے۔