اسمبلی اور لوک سبھا چناؤ میںتلنگانہ میں کانگریس کو سبقت کی پیش قیاسی

,

   

لوک سبھا کی 8 نشستوں پر کامیابی کا امکان، بی آر ایس کو 6 اور بی جے پی کو 2 نشستوں پر کامیابی، ڈیموکریسی ٹائمس کا سروے
حیدرآباد13 اکتوبر (سیاست نیوز) تلنگانہ میں اسمبلی انتخابات کے نتائج برسر اقتدار بی آر ایس کیلئے چونکا دینے والے ثابت ہوسکتے ہیں۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے اسمبلی چناؤ کے شیڈول کی اجرائی کے بعد مختلف میڈیا اداروں کی جانب سے اسمبلی اور لوک سبھا نشستوں کے بارے میں سروے کا اہتمام کیا گیا۔ ماقبل اسمبلی انتخابات اوپنین پول میں بیشتر سروے رپورٹس کانگریس کو سبقت کی پیش قیاسی کر رہے ہیں جبکہ بعض دیگر سروے رپورٹس میں سادہ اکثریت کے ساتھ کے سی آر کی اقتدار میں واپسی کا دعویٰ کیا گیا۔ ڈیموکریسی ٹائمس نیٹ ورک نے موجودہ صورتحال میں لوک سبھا چناؤ کی صورت میں سیاسی صورتحال پر سروے رپورٹ جاری کی ہے۔ رپورٹ میں مجموعی طور پر بی جے پی کو سبقت کی پیش قیاسی کی گئی لیکن تلنگانہ کے معاملہ میں سروے رپورٹ مختلف ہے۔ تلنگانہ کی 17 لوک سبھا نشستوں میں کانگریس کو 8 نشستوں پر کامیابی کی پیش قیاسی کی گئی جبکہ بی آر ایس کو 6 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوگی۔ بی جے پی کو 2 اور مجلس کو ایک نشست پر کامیابی کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ ڈیموکریسی ٹائمس پروجیکشن کے مطابق کانگریس کو 37 فیصد ووٹ حاصل ہونگے جبکہ بی آر ایس 34 فیصد کے ساتھ 6 نشستوں پر کامیابی حاصل کرے گی۔ بی جے پی کو 23 فیصد ووٹ حاصل ہوں گے لیکن اسے محض 2 نشستوں پر اکتفا کرنا پڑ ے گا ۔ مجلس کو 6 فیصد ووٹ کے ساتھ ایک نشست پر کامیابی حاصل ہوگی۔ تلنگانہ میں لوک سبھا نشستوں کے معاملہ میں 2019 چناؤ میں بی آر ایس نے 9 نشستوں پر کامیابی حاصل کرکے اپنی سبقت کو برقرار رکھا تھا ۔ بی جے پی کو 4 جبکہ کانگریس کو 3 لوک سبھا نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی تھی۔ گزشتہ 4 برسوں میں تلنگانہ میں سیاسی رجحانات میں بڑی حد تک تبدیلی واقع ہوئی ہے۔ کرناٹک اسمبلی نتائج سے قبل تلنگانہ میں بی آر ایس ، کانگریس اور بی جے پی میں سخت مقابلہ کی پیش قیاسی کی جارہی تھی لیکن کرناٹک اور ہماچل پردیش میں کانگریس کی کامیابی نے تلنگانہ میں سیاسی صورتحال کو تبدیل کردیا۔ تلنگانہ کے ووٹرس بھی اسمبلی اور لوک سبھا دونوں میں تبدیلی کے حق میں دکھائی دے رہے ہیں۔ سروے رپورٹس کے مطابق اسمبلی کے چناؤ میں کانگریس و بی آر ایس کے درمیان ووٹوں کا فیصد تقریباً یکساں ہے۔ دونوں پارٹیوں کو 42 فیصد ووٹ حاصل ہونے کی پیش قیاسی کی جارہی ہے۔ امیدواروں کے ناموں کے اعلان اور انتخابی مہم کے دوران حقیقی صورتحال واضح ہوگی۔ ڈیموکریسی ٹائمس میں ملک بھر میں عوامی رجحان کا پتہ چلانے کیلئے جو سروے کیا ہے ، اس کے مطابق تلنگانہ میں بی آر ایس کی نشستیں 9 سے گھٹ کر 6 ہوجائیں گی جبکہ کانگریس کی نشستوں میں 5 کا اضافہ ہوسکتا ہے۔ فی الوقت کانگریس کے تین ارکان لوک سبھا ہیں جو بڑھ کر 8 ہوسکتے ہیں۔ سروے میں بی جے پی کو بھی نقصان کی پیش قیاسی کی گئی ہے۔ بی جے پی کے موجودہ چار ارکان گھٹ کر 2 ہوسکتے ہیں۔ لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات کے بارے میں اوپنین پول کے نتائج سے برسر اقتدار بی آر ایس میں کافی ہلچل دیکھی جارہی ہے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے تیسری مرتبہ کامیابی کو یقینی بنانے کیلئے انتخابی امور کے کئی ماہرین کی خدمات حاصل کی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر ووٹرس کو بی آر ایس کی طرف موڑنے کیلئے منشور میں کئی اہم اعلانات کرسکتے ہیں۔ کانگریس نے انتخابی منشور سے پہلے ہی عوام کیلئے 6 مختلف ضمانتوں کا اعلان کیا ہے جس کی بڑے پیمانہ پر تشہیر کی جارہی ہے۔ غریب اور متوسط طبقات میں کانگریس کے تیقنات پر مثبت ردعمل ظاہر کیا جارہا ہے ۔ کے سی آر نے کانگریس کے تیقنات کا اثر زائل کرنے انتخابی منشور میں بعض نئے اعلانات کی تیاری کرلی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بی آر ایس کی جانب سے امدادی اسکیمات کا اعلان کیا جائے گا ۔ عوام کو لبھانے کیلئے بی آر ایس اور کانگریس کے درمیان مسابقت جاری ہے۔ اگر بی آر ایس 15 اکتوبر کو انتخابی منشور میں نئے اعلانات شامل کرے گی تو پھر کانگریس پارٹی بھی اپنے منشور میں کچھ اضافہ ضرور کرے گی۔