ذخائر آب کے لیے حاصل کردہ اراضیات کے معاوضہ کی عدم ادائیگی پر مخالف حکومت پالیسی
حیدرآباد۔5۔اگسٹ(سیاست نیوز) کومٹ ریڈی راجگوپال کے اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہونے کے اعلان کے ساتھ ہی منوگوڑے حلقہ اسمبلی کے انتخابات میں تلنگانہ راشٹرسمیتی کے امیدوار کو شکست سے دوچار کرنے کے لئے کسانوں نے محاذ تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور کہا جا رہاہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے ذخائر آب کے لئے جن کسانوں کی اراضیات زبردستی حاصل کی گئی ہیں وہ ٹی آر ایس امیدوار کے خلاف مقابلہ کی تیاری کر رہے ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے 1200 کسانوں کو جن کی اراضیات ذخائر آب کی تعمیر کے نام پر حاصل کی گئی ہیں ان کو منوگوڑے حلقہ اسمبلی سے میدان میں اتارنے کا فیصلہ کیا ہے اور متاثرہ کسانوں کی تنظیم نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ بہ حیثیت آزاد امیدوار منوگوڑے حلقہ اسمبلی کے ضمنی انتخابات میں حصہ لیں گے۔ بتایاجاتا ہے کہ حکومت کی جانب سے 5 ذخائرآب کی تعمیر کے لئے جن کسانوں کی اراضیات کو حاصل کیا گیا ہے وہ حکومت سے شدید ناراض ہیں اور وہ اپنا احتجاج درج کروانے کے لئے ضمنی انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں۔ سال 2019 میں ہوئے عام انتخابات کے دوران حلقہ پارلیمان نظام آباد کے ہلدی کے کسانوں نے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی دختر کے کویتا کے خلاف بڑی تعداد میں پرچہ نامزدگی کے ادخال کے ذریعہ ان کی شکست کو یقینی بنایا تھا اور اس کے بعد بھی اس طرح کی حکمت عملی اختیار کی جاتی رہی ہے لیکن منوگوڑے حلقہ اسمبلی میں 1200 کسان اپنا پرچہ نامزدگی داخل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو یہ ہندستان کی تاریخ کا پہلا ایسا اسمبلی الیکشن ہوگا جس میں اتنی بڑی تعداد میں امیدوار میدان میں اتارے جائیں گے۔ ضلع نلگنڈہ میں فلوروسیز کے متاثرین نے اپنے مسائل پر توجہ مبذول کروانے کے لئے 1996 میں ہوئے پارلیمانی انتخابات کے دوران 458 پرچہ نامزدگی داخل کئے تھے تاکہ ان کے مسائل کا حل کیا جاسکے۔ منوگوڑے حلقہ اسمبلی کے ضمنی انتخابات کی صورت میں ریاستی حکومت کے خلاف احتجاج درج کروانے کے لئے اپنی قابل کاشت اراضیات سے محروم ہونے والے کسانوں کی جانب سے کئے گئے فیصلہ کے مطابق وہ بھی انتخابات میں حصہ لیتے ہوئے اپنے مسائل سے سیاسی جماعتو ںاور عوام کو واقف کروانے کی کوشش کر یں گے کیونکہ حکومت نے مفاد عامہ کے تحت ان کی اراضیات حاصل کی ہیں لیکن اس کے عوض میں کوئی اراضیات کی تخصیص عمل میں نہیں لائی گئی۔م