سٹہ باز بھی سرگرم ، چار ضمنی انتخابات میں ٹی آر ایس اور بی جے پی کے درمیان نتیجہ ٹائی ، کانگریس نے کھاتہ نہیں کھولا
حیدرآباد ۔ 4 ۔ اگست : ( سیاست نیوز) : طویل تجسس کے بعد کانگریس کے رکن اسمبلی کومٹ ریڈی راجگوپال ریڈی نے کانگریس پارٹی اور اسمبلی رکنیت سے مستعفی ہونے کا اعلان کرنے کے بعد اسمبلی حلقہ منگوڑ میں ضمنی انتخابات کی تمام سیاسی جماعتوں نے تیاریوں کا آغاز کردیا ہے ۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے ضمنی انتخابات کا اعلامیہ جاری کرنے سے قبل کون جیتے گا اس پر سٹہ کا بازار بھی گرم ہوگیا ہے ۔ امیدواروں کا اعلان ہونے سے قبل ہی پارٹیوں کی بنیاد پر بولی لگائی جارہی ہے ۔ سٹہ بازوں کے لیے پسندیدہ جماعت بی جے پی بنی ہوئی ہے ۔ حالانکہ یہ اسمبلی حلقہ کانگریس کا گڑھ مانا جاتا ہے ۔ مگر کانگریس پارٹی تیسرے نمبر پر چل رہی ہے ۔ دوسرے نمبر پر حکمران جماعت ٹی آر ایس چل رہی ہے ۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ بی جے پی نے ایک کرسچن میناریٹی کے سرپنچ کو بی جے پی میں شامل ہونے پر 20 لاکھ روپئے دینے کا آفر دیا ہے ۔ جس کی مقامی ٹی آر ایس قائدین بھی تصدیق کررہے ہیں ۔ کومٹ ریڈی راجگوپال ریڈی کا کانگریس سے تعلق تھا ۔ 6 منڈل کانگریس صدور نے کومٹ ریڈی کی تائید کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس پر پارٹی نے انہیں معطل کردیا ہے ۔ اس کے علاوہ کانگریس کے بیشتر ایم پی ٹی سی ارکان اور سرپنچس کومٹ ریڈی راجگوپال ریڈی کے ساتھ جانے کو ترجیح دے رہے ہیں ۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ بی جے پی کی جانب سے ایک سرپنچ کو 5 لاکھ اور ایک ایم پی ٹی سی رکن کو پارٹی میں شامل ہونے پر 3 لاکھ روپئے کا آفر دے رہی ہے ۔ سال 2018 تا 2022 تک چار سال کے دوران ریاست میں 4 اسمبلی حلقوں کے ضمنی انتخابات میں بی جے پی نے 2 اور ٹی آر ایس نے 2 اسمبلی حلقوں پر کامیابی حاصل کی ہے ۔ حالانکہ ضلع نلگنڈہ کانگریس پارٹی کا مضبوط گڑھ مانا جاتا ہے ۔ مگر اس ضلع میں منعقدہ دو اسمبلی حلقوں کے ضمنی انتخابات میں حکمران ٹی آر ایس نے کامیابی حاصل کی ہے ۔ ضمنی انتخابات میں کانگریس پارٹی نے ابھی تک اپنا کھاتہ نہیں کھولا ہے ۔۔ ن