اسمبلی حلقہ مہیشورم میں بی آر ایس اور مجلس اتحاد المسلمین میں دوریاں!

,

   

حلقہ کے ترقیاتی کاموں کا سہرا دونوں جماعتوں کے کارکن اپنے قائدین کے سر باندھنے میں مصروف
حیدرآباد۔19اپریل(سیاست نیوز) بھارت راشٹر سمیتی اور مجلس اتحاد المسلمین کے درمیان شہر کے نواحی علاقوں میں کے حلقہ جات اسمبلی میں دوریاں پیدا ہونے لگی ہیں اور دونوں سیاسی جماعتوں کے قائدین ایک دوسرے کی سیاسی مخالفت پر اترآئے ہیں۔ حلقہ اسمبلی چندرائن گٹہ سے متصل حلقہ اسمبلی مہیشورم میں جہاں اقلیتی طبقہ کے رائے دہندوں کا موقف کافی مستحکم ہے اور وہ اس نشست پر اثر انداز ہوسکتے ہیں لیکن اس کے باوجود مجلس کی حلیف بی آر ایس کی کامیابی کے باوجود مسلم علاقوں کو نظرانداز کئے جانے کی مسلسل شکایات موصول ہوتی رہی ہیں ۔ حلقہ اسمبلی مہیشورم کے بی آر ایس اور مجلسی کارکنوں کے درمیان اختلافات اب شدت اختیار کرنے لگے ہیں اور اس حلقہ میں ہونے والے ترقیاتی کاموں کے سلسلہ میں دونوں ہی سیاسی جماعتوں کے کارکن اپنی اپنی پارٹی کے قائدین کے سر سہرا باندھنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔انتخابات سے عین قبل پیدا شدہ یہ صورتحال ریاستی وزیر تعلیم شریمتی سبیتا اندرا ریڈی کے لئے پریشان کن ثابت ہونے لگی ہے کیونکہ وہ یہ نہیں سمجھ پارہی ہیں کہ عثمان نگر میں برسوں سے لوگ مشکل حالات کا سامنا کررہے ہیں اور اس علاقہ کے کئی مکانات پانی میں محروس ہونے کے باوجود مکمل خاموشی اختیار کرنے والے حلیف جماعت کے قائدین کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ حلقہ اسمبلی میں کئے جانے والے ترقیاتی کاموں کو اپنے سرباندھنے لگے ہیں اور انہیں اچانک حلقہ اسمبلی کے علاقو ںمیں موجود مسائل ان قائدین اور کارکنوں کو یاد آنے لگے ہیں۔ جل پلی کے علاقہ میں عیدگاہ کے چبوترہ کی تعمیر کے سلسلہ میں جاری کئے گئے فنڈس کے متعلق دونوں سیاسی جماعتوں کے قائدین یہ دعویٰ کرنے لگے ہیں کہ ان کی نمائندگی کی وجہ سے یہ کام ہوپایا ہے ۔ گذشتہ دنوں دونوں سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کے درمیان اختلافات اس وقت منظر عام پر آئے جب محترمہ سبیتا اندرا ریڈی کی موجودگی میں شادی مبارک اور کلیان لکشمی اسکیم کے چیکس کی تقسیم کا سلسلہ جاری تھا۔ اسی طرح دیگر پروگرامس کے متعلق بھی سیاسی حلقوں میں مباحث کا سلسلہ جاری ہے اور کہا جا رہاہے کہ مجلسی کارکن ‘ بی آر ایس قیادت پر دباؤ بنانے کی کوشش کر رہے ہیںجبکہ بی آر ایس قائدین کا کہناہے کہ وہ کبھی کارکنوں کے ساتھ مذاکرات نہیں کرتے بلکہ ان کا راست تعلق مجلسی قیادت کے ساتھ ہوتا ہے اور وہ انتخابی مفاہمت اور مقابلہ کی حکمت عملی کے سلسلہ میں قیادت سے ہی بات کرتے ہیں۔م