20 ڈسمبر تک اسمبلی کی کارروائی ملتوی، تلنگانہ میں جمہوریت بحال، چیف منسٹرکا دعویٰ
حیدرآباد ۔ 16 ڈسمبر (سیاست نیوز) چیف منسٹر تلنگانہ ریونت ریڈی نے کہا کہ ریاست میں پرگتی بھون کے رکاوٹوں اور گیٹ کو توڑتے ہوئے جمہوریت کو بحال کردیا گیا ہے اور عوام کو اندراماں حکومت کے ثمرات سے استفادہ کرنے کا بھرپور موقع فراہم کیا جارہا ہے۔ اسمبلی میں گورنر کے خطبہ اظہارتشکر مباحث میں حصہ لیتے ہوئے چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے کہا کہ وہ امید کرتے تھے کہ شکست کے بعد بی آر ایس پارٹی میں کوئی تبدیلی آئے گی۔ عوام کی جانب سے بی آر ایس کو اقتدار سے بیدخل کرنے اور کانگریس کو اقتدار حاصل ہونے کے باوجود بی آر ایس قائدین آج بھی اقتدار میں برقرار رہنے جیسا رویہ اپنا رہے ہیں جو نامناسب ہے۔ ہماری پارٹی ہماری مرضی اب نہیں چلے گی۔ ریونت ریڈی نے ماضی میں پیش آئے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وزیرداخلہ محمد محمود علی کو پرگتی بھون میں ایک ہوم گارڈ نے داخل ہونے نہیں دیا تھا۔ جہاں تک وزیرفینانس کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے ایٹالہ راجندر کو پرگتی بھون میں داخل ہونے نہیں دیا گیا جس کی وجہ سے وہ پرگتی بھون کے تمام رکاوٹوں کو دور کرتے ہوئے اس کے دروازے تلنگانہ کے 4 کروڑ عوام کیلئے کھول دیئے ہیں۔ عوام پرجا دربار میں پہنچ کر اپنے مسائل کو پیش کررہے ہیں۔ عوام نے کانگریس پر بھروسہ کیا ہے۔ کانگریس پارٹی 6 گیارنٹی کے علاوہ پارٹی منشور میں عوام سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل کرے گی۔ کانگریس کے 6 گیارنٹی میں 2 گیارنٹی پر عمل آوری کا آغاز ہوگیا ہے۔ بسوں میں خواتین کو مفت سفر کی سہولت فراہم کی گئی ہے جس پر خواتین پوری طرح مطمئن ہیں۔ اس کے علاوہ راجیو آروگیہ شری اسکیم کی رقم کو 5 لاکھ سے بڑھا کر 10 لاکھ روپئے کردیا گیا ہے۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کہا کہ چارمینار کی شان تلنگانہ کی پہچان ہے۔ پرانے شہر کی ترقی پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ میٹرو ریل پرانے شہر میں چلائی جائے گی جس کیلئے خصوصی حکمت عملی تیار کی جائے گی۔ کانگریس حکومت ترقی اور فلاح و بہبود پر خصوصی توجہ دے گی۔ اپوزیشن کے صحتمندانہ تجاویز اور مشوروں کو قبول کرے گی مگر تنقید برائے تنقید کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اسمبلی میں عوامی مسائل پر احتجاج کرنے پر کانگریس کے ارکان اسمبلی کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی اور سمپت کمار کی اسمبلی رکنیت منسوخ کردی گئی تھی۔ بی آر ایس کے 10 سالہ دورحکومت میں 8 ہزار کسانوں نے خودکشی کرلی ہے۔ بی آر ایس کے دورحکومت میں دسویں جماعت، انٹر کے امتحانات صحیح طریقہ سے منعقد نہیں کئے گئے جس کی وجہ سے 25 طلبہ نے خودکشی کرلی ہے۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کہا کہ کورونا بحران کے دوران ادویات بلاک میں فروخت والے تاجر کو 450 کروڑ روپئے میں راجیہ سبھا کی نشست فروخت کرنے کا بی آر ایس کو اعزاز حاصل ہے۔ تلنگانہ تحریک کیلئے ڈی ایس پی کے عہدہ سے مستعفی ہونے والی نلنی کو علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد دوبارہ ملازمت فراہم نہیں کی گئی مگر چیف منسٹر کے سی آر نے اپنی دختر کو ایم ایل سی بنایا تھا۔ دھرنا چوک برخاست کرتے ہوئے بی آر ایس حکومت نے احتجاج کرنے کی جمہوری دستوری حق سے عوام کو محروم کردیا۔ کانگریس حکومت نے دھرنا چوک کو بحال کردیا ہے۔ آمدنی کے معاملے میں تلنگانہ کے کسان ملک میں 25 ویں مقام پر ہے۔ مرکزی حکومت نے پارلیمنٹ میں اس کی وضاحت کی ہے۔ برقی کے استعمال میں تلنگانہ سارے ملک میں سرفہرست ہونے کا دعویٰ کیا گیا مگر حقیقت یہ ہیکہ تلنگانہ 10 ویں مقام پر ہے۔ اسمبلی میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان گرماگرم مباحث ہوئی جس کے بعد اسپیکر اسمبلی جی پرساد کمار گورنر کے خطبہ پر مباحث کی قرارداد منظور ہونے کا اعلان کرتے ہوئے اسمبلی کی کارروائی 20 ڈسمبر تک ملتوی کردی۔ن