لوک سبھا چناؤ میں بی آر ایس کے امکانات روشن، کانگریس کو ووٹ دینے والے افسوس میں، ظہیرآباد لوک سبھا حلقہ کے جائزہ اجلاس سے خطاب
حیدرآباد۔/7 جنوری، ( سیاست نیوز) بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی راما راؤ نے کہاکہ اگر اسمبلی انتخابات میں سیٹنگ ارکان اسمبلی کو تبدیل کیا جاتا تو نتائج مختلف ہوتے۔ کے ٹی آر آج تلنگانہ بھون میں ظہیرآباد لوک سبھا حلقہ کے جائزہ اجلاس سے خطاب کررہے تھے جس میں ظہیرآباد لوک سبھا حلقہ کے تمام اہم قائدین اور کارکنوں نے شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ لوک سبھا چناؤ میں بی آر ایس کا شاندار مظاہرہ رہے گا اور اسمبلی چناؤ میں کانگریس کو ووٹ دینے والے افراد اب اپنے فیصلہ پر افسوس کرتے ہوئے ازسر نو جائزہ لینے پر مجبور ہیں۔ کے ٹی آر نے کہا کہ اسمبلی چناؤ میں پارٹی کی شکست کی اہم وجہ سیٹنگ ارکان اسمبلی کی عدم تبدیلی ہے۔ اگر کمزور موقف رکھنے والے ارکان اسمبلی کو تبدیل کیا جاتا تو نتائج مختلف ہوتے۔ پارلیمنٹ الیکشن میں اس طرح کی غلطی نہیں کی جائے گی۔ کے ٹی آر نے کہا کہ 119 اسمبلی حلقوں میں 39 پر کامیابی کوئی کمتر نہیں ہے، ہر تین نشستوں میں سے بی آر ایس نے ایک نشست پر کامیابی حاصل کی ہے۔ 2014 میں پارٹی نے تنہا الیکشن میں حصہ لیا تھا اور پارٹی کی تنظیمی طاقت کمزور ہونے کے باوجود عوام نے اقتدار عطا کیا۔ انہوں نے کہا کہ جکل میں بی آر ایس امیدوار شنڈے کی شکست کا کسی کو گمان نہیں تھا صرف 1100 ووٹ کے فرق سے پارٹی کو شکست ہوئی۔ کئی مقامات پر انتہائی کم ووٹوں سے بی آر ایس کو شکست ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوک سبھا الیکشن میں بی آر ایس کے بہتر مظاہرہ کے امکانات روشن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریونت ریڈی موجودہ اضلاع کی تعداد کو کم کرنے کیلئے کمیشن قائم کررہے ہیں لیکن عوام نئے اضلاع کی منسوخی کو برداشت نہیں کریں گے۔ کے ٹی آر نے کہا کہ کے سی کی مقبولیت اور ان پر عوام کے اعتماد میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ ایک ماہ کے اندر کانگریس کو ووٹ دینے والے آج افسوس کا اظہار کررہے ہیں۔ کے ٹی آر نے کہا کہ 6 ضمانتوں پر عمل آوری کیلئے بی آر ایس نے حکومت پر دباؤ میں اضافہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریونت ریڈی حکومت بھاری قرض کے نام پر عوام کو چھ ضمانتوں سے محروم کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی ناکامیوں کے خلاف بی آر ایس جدوجہد کرے گی۔ انہوں نے پیشن گوئی کی کہ لوک سبھا چناؤ میں سہ رخی مقابلہ سے بی آر ایس کو فائدہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ 2009 میں صرف 10 نشستوں پر ٹی آر ایس کو کامیابی ملی تھی۔ کے سی آر کے مرن برت کے بعد صورتحال تبدیل ہوگئی۔ انہوں نے قائدین اور کارکنوں پر زور دیا کہ ابھی سے لوک سبھا انتخابات کی تیاریوں میں جٹ جائیں۔ اجلاس میں سابق اسپیکر پوچارم سرینواس ریڈی، سابق وزراء وی پرشانت ریڈی، ایس نرنجن ریڈی، مدھو سدھن چاری، رکن پارلیمنٹ بی بی پاٹل، ظہیرآباد لوک سبھا حلقہ کے تحت ارکان اسمبلی و کونسل، سابق ارکان اسمبلی، ضلع پریشد صدرنشین اور دیگر قائدین نے شرکت کی۔1