اسپیکر کے خلاف ریمارک پر بی آر ایس رکن جگدیش ریڈی ایوان سے معطل

   

بی آر ایس ارکان کا واک آؤٹ، ایوان میں شور و غل اور ہنگامہ آرائی، 4 گھنٹوں تک کارروائی ملتوی رہی
حیدرآباد 13 مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں اسپیکر جی پرساد کمار کے خلاف بی آر ایس رکن جگدیش ریڈی کے توہین آمیز ریمارکس پر کافی ہنگامہ ہوا ، جس کے بعد جگدیش ریڈی کو جاریہ بجٹ سیشن کے لئے ایوان سے معطل کردیا گیا۔ گورنر کے خطبہ پر تحریک تشکر پر مباحث میں حصہ لیتے ہوئے جگدیش ریڈی نے حکومت کے خلاف سخت ریمارکس کئے اور ایک مرحلہ پر اُنھوں نے گورنر جی پرساد کمار کے خلاف ریمارک کرتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ ایوان آپ کی جاگیر نہیں ہے۔ جگدیش ریڈی کے اِس ریمارک کے ساتھ ہی برسر اقتدار پارٹی کے ارکان نے سخت احتجاج کیا اور دلت طبقہ سے تعلق رکھنے والے اسپیکر کی توہین پر ایوان سے معطل کرنے کی مانگ کی۔ بی آر ایس اور کانگریس ارکان ایک دوسرے کے خلاف ریمارکس کرنے لگے جس کے نتیجہ میں ایوان میں نعرے اور جوابی نعرے سنائی دیئے۔ برسر اقتدار پارٹی ارکان نے ابتداء میں جگدیش ریڈی سے مطالبہ کیاکہ وہ اسپیکر سے معذرت خواہی کریں تاہم بعد میں اُنھوں نے معطلی کی مانگ کرتے ہوئے نعرے بازی شروع کردی۔ وزیر اُمور مقننہ سریدھر بابو نے کہاکہ بی آر ایس رکن دراصل اسپیکر کو دھمکانے کی کوشش کررہے ہیں۔ اُنھوں نے اسپیکر سے درخواست کی کہ جگدیش ریڈی کے ریمارکس کو ریکارڈ سے حذف کرتے ہوئے اُن کے خلاف کارروائی کی جائے۔ ایوان میں شور و غل اور ہنگامہ آرائی کے دوران اسپیکر نے دن 11.40 بجے ایوان کی کارروائی کو 15 منٹ کے لئے ملتوی کردیا۔ اجلاس کے التواء کے بعد اسپیکر کے چیمبر میں حکومت اور اپوزیشن ارکان کو طلب کرتے ہوئے جگدیش ریڈی کے ریمارکس سے واقف کرایا۔ ریکارڈ کے مطابق جگدیش ریڈی نے کہاکہ ’’یہ ایوان ہر کسی کا ہے اور تمام ارکان کو یکساں مواقع ملنے چاہئے۔ ہم تمام کی جانب سے آپ کو اسپیکر کے عہدہ پر فائز کیا گیا ہے اور یہ ایوان آپ کی جاگیر نہیں ہے‘‘۔ اسمبلی ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد بی آر ایس ارکان نے جگدیش ریڈی کو اسپیکر سے معذرت خواہی کے لئے راضی کیا لیکن برسر اقتدار پارٹی ارکان کارروائی پر زور دیتے رہے۔ تقریباً 4 گھنٹے کے وقفہ کے بعد 3.30 بجے ایوان کی کارروائی کا دوبارہ آغاز ہوا۔ ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا، ریاستی وزراء پونم پربھاکر، اتم کمار ریڈی اور دیگر ارکان نے اسپیکر سے اپیل کی کہ جگدیش ریڈی کو ایوان سے معطل کرتے ہوئے مستقبل میں اس طرح کے واقعات پر روک لگائی جائے۔ بھٹی وکرامارکا نے کہاکہ جگدیش ریڈی کے ریمارکس اسمبلی کی توہین کے مترادف ہے۔ وزراء کے اظہار خیال کے بعد وزیر اُمور مقننہ سریدھر بابو نے تحریک پیش کرتے ہوئے جگدیش ریڈی کو بجٹ سیشن تک معطل کرنے کی قرارداد پیش کی۔ اسپیکر پرساد کمار نے معطلی کی تحریک کو ندائی ووٹ سے منظوری دے دی۔ بی آر ایس کے ارکان معطلی کی کارروائی کے دوران شور و غل کرتے ہوئے۔ اُن کا مطالبہ تھا کہ جگدیش ریڈی کو وضاحت کا موقع دیا جائے۔ اسپیکر نے معطلی کی تحریک منظور کرتے ہوئے جگدیش ریڈی کو ہدایت دی کہ وہ ایوان سے چلے جائیں۔ بی آر ایس کے ارکان اظہار خیال کا موقع دینے کا مطالبہ کرتے رہے اور وہ ایوان کی کارروائی میں رکاوٹ بنے رہے۔ کچھ دیر تک احتجاج کے بعد بی آر ایس ارکان نے ایوان سے واک آؤٹ کردیا۔ جگدیش ریڈی کی معطلی کے بعد تحریک تشکر پر مباحث کا دوبارہ آغاز ہوا۔ جگدیش ریڈی نے مباحث کے آغاز کے ساتھ ہی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہاکہ گورنر کے ذریعہ 36 منٹ میں 360 جھوٹ کہلوائے گئے ہیں۔ کسانوں کی قرض معافی اور دیگر اسکیمات پر عمل آوری کے دعوے کھوکھلے ہیں۔ وزیر عمارات و شوارع کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی نے یاد دلایا کہ کے سی آر نے تلنگانہ کی تشکیل کے بعد دلت کو پہلا چیف منسٹر بنانے کا وعدہ کیا تھا لیکن خود چیف منسٹر کے عہدہ پر فائز ہوگئے۔ دلت اپوزیشن لیڈر بھٹی وکرامارکا کو مسلمہ اپوزیشن کے موقف سے محروم کرنے کے لئے کانگریس ارکان کو انحراف کی ترغیب دی گئی تھی۔ وینکٹ ریڈی نے کسانوں کی بھلائی کے اقدامات پر بی آر ایس ارکان کو مباحث کا چیلنج کیا۔ وزیر اُمور مقننہ نے جگدیش ریڈی کو مشورہ دیا کہ وہ اسپیکر پر ریمارکس کرنے سے باز آئیں کیوں کہ اسپیکر کے خلاف بیان دراصل ایوان کی توہین ہے۔ بھٹی وکرامارکا اور سریدھر بابو نے پارلیمانی قواعد کا حوالہ دیا اور کہاکہ اسپیکر کے فیصلہ کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ اُنھوں نے واضح کیاکہ اسپیکر کے خلاف کسی بھی رکن کا ریمارک تادیبی کارروائی کا متقاضی ہوتا ہے۔ 4 گھنٹوں تک ایوان کی کارروائی ملتوی رہی اور بعد میں ایوان میں متفقہ طور پر جگدیش ریڈی کی معطلی کی تحریک کو منظوری دے دی گئی۔1