جگدیش ریڈی کی سرزنش کے بجائے تائید افسوسناک، ریاستی وزیر پونم پربھاکر کا ردعمل
حیدرآباد 14 مارچ (سیاست نیوز) وزیر بہبودی پسماندہ طبقات پونم پربھاکر نے الزام عائد کیاکہ بی آر ایس قائدین نے اسپیکر کی توہین کرتے ہوئے جمہوری اور دستوری اداروں کی توہین کی ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے پونم پربھاکر نے کل اسمبلی میں اسپیکر کے خلاف بی آر ایس رکن جگدیش ریڈی کے ریمارکس کی مذمت کی۔ اُنھوں نے کہاکہ جمہوریت میں اسپیکر کی توہین دراصل ادارہ کی توہین کے مترادف ہے۔ اسپیکر تمام ارکان کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں اور اسپیکر کے کسی بھی فیصلہ کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ اقتدار سے محرومی سے بوکھلاہٹ کا شکار بی آر ایس قائدین اسپیکر کو نشانہ بنانے سے نہیں چوک رہے ہیں۔ جگدیش ریڈی نے اسپیکر سے مخاطب ہوتے ہوئے انتہائی قابل اعتراض ریمارک کیا ہے جس پر بی آر ایس پارٹی کو چاہئے کہ معذرت خواہی کرتی۔ بجائے اُس کے جگدیش ریڈی کی معطلی کے خلاف احتجاج منظم کیا گیا۔ پونم پربھاکر نے کہاکہ ایوان میں اسپیکر کی توہین کے بعد سوائے کارروائی کے وضاحت کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ اُنھوں نے کہاکہ جگدیش ریڈی کی سرزنش کرنے کے بجائے بی آر ایس قائدین اُن کی تائید کرتے ہوئے دلت اسپیکر کی توہین کررہے ہیں۔ ایوان میں اظہار خیال کے حدود ہوتے ہیں اور 10 سال تک وزیر رہنے والے جگدیش ریڈی نے جان بوجھ کر اسپیکر کو نشانہ بنایا۔ امبیڈکر مجسمہ کے پاس بی آر ایس قائدین کا دھرنا مضحکہ خیز ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ بی آر ایس کے بیشتر ارکان ایوان کے اُصول اور ضوابط سے اچھی طرح واقف ہیں اور اُنھوں نے جان بوجھ کر اسپیکر کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ تلنگانہ عوام اسمبلی کے واقعہ پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ پونم پربھاکر نے بی آر ایس قیادت کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے ارکان کو ایوان کے قواعد اور اسپیکر کے احترام سے واقف کرائیں۔ اُنھوں نے یاد دلایا کہ بی آر ایس دور حکومت میں کونسل کے صدرنشین پر کاغذ پھینکنے کے جرم میں کانگریس کے 2 ارکان کی رکنیت کو ختم کردیا گیا تھا۔ اُنھوں نے کہاکہ اسپیکر کی توہین کرتے ہوئے توہین کے قصوروار رکن کی تائید کرنا افسوسناک ہے۔ 1