اسکولی طلباء کے ساتھ سیپٹک ٹینک کی صفائی

   

پرنسپل، دو اساتذہ، وارڈن معطل،پرنسپل اور ٹیچر گرفتار

بنگلورو:کرناٹک میں ایک غیر انسانی واقعہ پیش آیا جہاں طلباء کے ایک گروپ کو، جو تمام درج فہرست ذات برادریوں سے تعلق رکھتے ہیں، کو مبینہ طور پر ایک اسکول میں سیپٹک ٹینک کی صفائی کروائی گئی جو متنازعہ بن گیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ طالب علموں سے یہ کام سزا کے طور پر کیا گیا تھا۔ ایک اقامتی سکول میں طلباء کو سیپٹک ٹینک صاف کرنے پر مجبور کیا گیا۔ اسکول کے پرنسپل نے خود کئی طلبہ کے ساتھ یہ کام کیا۔ کولار ضلع میں پیش آنے والا یہ واقعہ تاخیر سے سامنے آیا۔کولار ضلع کے مورارجی دیسائی رہائشی اسکول میں، کلاس 7، 8 اور 9 کے طلباء نے حال ہی میں اسکول کے سیپٹک ٹینک کو صاف کیا۔پانچ یا چھ طلباء کو زبردستی اندر لایا گیا اور ٹینک کو دھویا گیا۔ اس وقت ا سکول کے پرنسپل بھی وہاں موجود تھے۔یہ واقعہ اس وقت منظرعام پر آیا جب ایک ٹیچر نے یہ واقعہ اپنے موبائل فون پر ریکارڈ کر کے سوشل میڈیا پر پوسٹ کر دیا۔اسکول پرنسپل، دو اساتذہ اور ہاسٹل وارڈن کو معطل کر دیا گیا۔ پولیس نے واقعہ کا مقدمہ درج کرکے پرنسپل اور ٹیچر کو گرفتار کرلیا۔پرنسپل بھرتھما، اساتذہ منیاپا اور ابھیشیک، اور ہاسٹل وارڈن منجوناتھ کو معطل کر دیا گیا تھا۔ریاستی وزیر اعلیٰ سدارامیانے اس واقعہ پر صدمے کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ انہوں نے مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کا یقین دلاتے ہوئے تفصیلی رپورٹ کا حکم دیا ہے۔ ریاستی سماجی بہبود کے وزیر ایچ سی مہادیوپا کہاکہ ہم اس واقعہ کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ جب ہمیں اس معاملے کا علم ہوا تو ہم نے پرنسپل اور دیگر عملے کو معطل کردیا۔ ہم نے اس کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔کرناٹک ریزیڈنشیل ایجوکیشن انسٹی ٹیوشنز سوسائٹی کے ایگزیکٹیو ڈائرکٹر نوین کمار راجو اور محکمہ سماجی بہبود کے جوائنٹ ڈائریکٹر آر سری نواس نے بھی جائے وقوعہ کا معائنہ کیا۔مبینہ ویڈیوز میں، کلاس 7 سے 9 کے پانچ سے چھ طلباء کو پرنسپل اور ایک ٹیچر کی موجودگی میں سیپٹک ٹینک میں داخل ہونے اور صاف کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔طلباء کو بھی اپنی پریشانی بانٹتے ہوئے اور اسکول میں برداشت کرنے والے سخت حالات کو بیان کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ طلباء نے یہ بھی الزام لگایا کہ انہیں سزا کا نشانہ بنایا جاتا ہے، جس میں رات کو ہاسٹل کے باہر گھٹنے ٹیکنا اور جسمانی استحصال شامل ہے۔