اشیائے ضروریہ پر مہنگائی کا اثر ، چاول کی قیمت میں اضافہ

   

برآمدات کے آغاز کے ساتھ ہی ذخیرہ اندوزی کا شبہ ، غریب اور متوسط طبقہ پر مالی بوجھ

حیدرآباد۔17 ۔ جون(سیا ست نیوز) مہنگائی میں ہونے والے اضافہ کے اثرات اشیائے ضروریہ پر نظر آنے لگے ہیں اور گذشتہ 10یوم کے دوران چاول کی قیمتوں میں 20 فیصد تک کا اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا ہے ۔ بتایا جاتاہے کہ گذشتہ ماہ کے دوران چاول کی قیمتو ںمیں اضافہ کی وجہ عالمی تیل کا بحران رہی لیکن گذشتہ 10یوم کے دوران جو قیمتوں میں اضافہ کا رجحان دیکھا جا رہاہے مل مالکین کا دعویٰ ہے کہ برآمدات کے آغاز کے ساتھ ہی چاول کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگی ہیں۔ تلنگانہ جو کہ دھان کی پیداوار کرنے والی ریاست ہے تلنگانہ کے شہروں میں بھی چاول کی قیمتو ںمیں اچانک اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا ہے ۔ذرائع کے مطابق مل مالکین اور ٹھوک تاجرین کی جانب سے کی جانے والی ذخیرہ اندوزی کے نتیجہ میں ارزاں فروشی (ریٹیل) میں چاول کی قیمتو ںمیں بے تحاشہ اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا ہے۔تاجرین کے مطابق عام استعمال کے چاول جو کہ بازار میں دستیاب ہیں ان کی قیمتو ںمیں فی کیلو 5تا10 روپئے کا اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا ہے۔ بتایا جاتاہے کہ گذشتہ 10یوم کے دوران زائد از 10 فیصد اضافہ کے سلسلہ میں کہا جا رہاہے کہ جو چاول عام استعمال کا ہے اور 60تا65 روپئے فی کیلو دستیاب ہوتا تھااس کی قیمت میں 5تا10 روپئے کا اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا ہے ۔مل مالکین کا دعویٰ ہے کہ برآمدات جو کہ ایران ۔ امریکہ و اسرائیل جنگ کے نتیجہ میں محدود ہوچکی تھیں اب ان کی کشادگی کے آثار پیدا ہونے لگے ہیں اسی لئے قیمتوں میں اضافہ ہونے لگا ہے لیکن ٹھوک تاجرین کا کہناہے کہ بازار میں مصنوعی قلت پیدا کرتے ہوئے قیمتوں میں اضافہ کی کوشش کی جار ہی ہے کیونکہ عالمی بازار کی کشادگی یا برآمدات کے آغاز سے قبل ہی ریاست بھر میں چاول کی قیمتوں میں اضافہ کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ بتایاجاتاہے کہ ریاست میں سالانہ 60 لاکھ میٹرک ٹن معیاری چاول کی پیداوار ہوا کرتی ہے اس کے علاوہ 10لاکھ میٹرک ٹن دھان مل مالکین راست کسانوں سے خرید کر بازار میں فروخت کرتے ہیں۔اس طرح تلنگانہ میں سالانہ 70لاکھ میٹرک ٹن دھان فروخت کیا جاتا ہے ۔3