اطالوی صحافیہ کے ایرانی حکام کے متعلق انکشافات!

   

لندن: معروف اطالوی خاتون صحافی سیسلیا سالا نے امریکی اخبارنیوریارک ٹائمز کو انٹرویو میں تہران میں اپنی حراست کے عرصے کی بعض تفصیلات کا انکشاف کیا ہے۔ سالا تین ہفتوں تک ایران میں ایوین جیل میں حراست میں رہی۔ جنوری 2024 میں ان ڈرون طیاروں نے اردن میں ایک امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا تھا۔اطالوی صحافیہ ایران سے متعلق خبروں کی کوریج کرتی تھی اور اس نے 2022 کے احتجاج سے ایک برس قبل 2021 میں ایران کا دورہ کیا تھا۔اس کے باوجود آخری صدارتی انتخابات کی کوریج کیلئے گذشتہ دو برسوں کے دوران میں سالا کی ایران میں داخلے کیلئے ویزے کی درخواستیں مسترد کر دی گئیں۔ سالا کا کہنا تھا کہ وہ آئندہ کبھی ایران نہیں جائے گی، کم از کم اس وقت تک جب تک موجودہ حکومت برسراقتدار ہے۔مسعود پزشکیان کے صدر بننے کے بعد سالا کے ساتھیوں نے اسے بتایا کہ نئی حکومت غیر ملکی صحافیوں کے حوالے سے زیادہ کشادہ پالیسی اپنا سکتی ہے کیونکہ وہ یورپ کے ساتھ تعلقات کی بحالی کی خواہشمند ہے۔اس مشورے کی روشنی میں 29 سالہ صحافیہ نے ویزا حاصل کرنے کی نئی درخواست دی جو اس مرتبہ منظور کر لی گئی۔