شبِ سیاہ میں گم ہوگئی ہے راہِ حیات
قدم سنبھل کے اٹھاؤ بہت اندھیرا ہے
جن نوجوانوں کے ساتھ حکومت نے سنسد مارچ کے بعدبات چیت کرتے ہوئے کچھ تیقنات دئے تھے اور جنہیں اعتماد میں لینے کی کوشش کی گئی تھی ان کے ساتھ ہی مرکزی حکومت کی جانب سے اعتماد شکنی کی جا رہی ہے ۔ حکومت نے جنتر منتر احتجاج اور پھر سنسد مارچ کے بعددھرمیندر پردھان سے استعفی بھی لے لیا تھا اور سی جے پی کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے احتجاج ختم کروانے کیلئے رضامند کرلیا تھا ۔ یہ دعوی کیا گیا تھا کہ حکومت نے احتجاجیوں کے خلاف مقدمات واپس لینے سے اتفاق کرلیا ہے ‘ نئے مقدمات درنہ کرنے کا تیقن دیا ہے اور نیٹ پیپر لیک کی وجہ سے جن طلباء نے خودکشی کرلی ہے ان کے لواحقین کو معاوضہ ادا کیا جائے گا ۔ ان تینوں ہی تیقنات پر حکومت کی جانب سے عدم عمل آوری کے الزامات عائد کئے جا رہے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ ایک ماہ گذرنے کے باوجود حکومت کی جانب سے مقدمات سے دستبرداری کیلئے کوئی کارروائی نہیں کی گئی اور نہ ہی ان مقدمات کی فہرست سپریم کورٹ میں داخل کی گئی ہے ۔ نئے مقدمات حالانکہ درج نہیں کئے گئے ہیں تاہم یہ ضرور ہے کہ احتجاج میں شامل کارکنوں اور نوجوانوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے ۔ ان کی نگرانی کی جارہی ہے اور حد تو یہ ہے کہ احتجاج میں شامل لڑکیوں کو رسواء کرنے کیلئے سوشیل میڈیا پر مہم چلائی جا رہی ہے ۔ اس کے علاوہ جن طلباء و طالبات نے نیٹ پیپر لیک کے مسئلہ پر خودکشی کرلی تھی ان کے لواحقین کو کوئی معاوضہ ادا نہیں کیا گیا ہے ۔ سابقہ مسائل تو حل نہیں ہوئے بلکہ مزید کئی امور پر نوجوانوں میں بے چینی کی کیفیت پیدا ہونے لگی ہے اور طلباء برادری کی جانب سے بھی اپنے اپنے مطالبات کی تائید میں احتجاج شروع ہوگئے ہیں۔ جھارکھنڈ میں احتجاج ہوا تھا اور اب بہار میں بھی طلباء نے اپنے مطالبات کیلئے سڑکوں پر اترنا شروع کردیا ہے ۔ ملک کی کئی یونیورسٹیز میں ایک طرح سے بے چینی کی فضاء پائی جاتی ہے اور طلباء برادری میں عدم اطمینان کی کیفیت ہے ۔ حکومت کو اس صورتحال کا نوٹ لینے کی ضرورت ہے ۔
سی جے پی کی جانب سے اب دعوی کیا جا رہا ہے کہ حکومت نے طلباء اور نوجوانوں کو جو تیقنات دئے گئے تھے ان کی تکمیل نہیں کی جا رہی ہے بلکہ اعتماد شکنی کی جا رہی ہے کیونکہ طلباء نے حکومت پرا عتماد کرتے ہوئے احتجاج ختم کیا تھا ۔ مرکزی حکومت کی جانب سے طلباء کو دئے گئے تیقنات پر عمل آوری کی جانی چاہئے تاہم اس کی شروعات بھی نہیں ہوئی ہے اور مقدمات واپس لینے کے مسئلہ پر تکنیکی عوامل پیش کرتے ہوئے ٹال مٹول سے کام لیا جا رہا ہے ۔ طلباء میںاعتماد بحال کرنے کی بجائے نت نئے طریقوں سے انہیں رسواء کرنے اور نشانہ بنانے کی کوششیں بھی چل رہی ہیں۔ کئی گوشوں کی جانب سے سوشیل میڈیا پر اس تعلق سے مہم چلاتے ہوئے احتجاج میں شامل نوجوانوںاور طلباء کو کئی لیبل لگائے جا رہے ہیں۔ ان کو بدنام کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی جا رہی ہے ۔ اس طرح سے طلباء حکومت پر اعتماد کرنے کو آئندہ کبھی تیار نہیں ہونگے۔ حکومت کو طلباء کی اعتماد شکنی سے گریز کرتے ہوئے اعتماد بحالی پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ان میں جو بے چینی پائی جاتی ہے اس کو دور کیا جاسکا ۔ ملک کے تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کی کوشش کی جانی چاہئے ۔ جو خامیاں سامنے آئی ہیں ان کو دور کیا جانا چاہئے اور طلباء کو تعلیم کیلئے ایک سازگار اور پرسکون ماحول فراہم کیا جانا چاہئے جو فی الحال انہیںدستیاب نہیں ہے ۔ مرکز کی نریندر مودی حکومت اس جانب توجہ دینے کیلئے تیار نظر نہیں آتی ۔
سارے ملک کے طلباء ملک کے موجودہ تعلیمی نظام سے غیرمطمئن ہیں اور ان کی شکایات کو دور کرنا حکومت کے فرائض میں شامل ہے ۔ تعلیم کے شعبہ کی صورتحال کو بہتر بنانے پر توجہ دی جانی چاہئے اور اعتماد شکنی کی روش کو ختم کیا جانا چاہئے ۔ جو تیقنات دئے گئے ہیں ان پر عمل آوری کرتے ہوئے نوجوانوں اور طلباء کی بے چینی کو دور کیا جانا چاہئے ۔ احتجاجیوں کو دشمن سمجھنے سے گریز کرنا چاہئے ۔ یہ کوئی سیاسی مخالفت نہیں بلکہ مسائل پر مبنی مخالفت ہے اور حکومت کو اس کاا حترام کرنا چاہئے ۔