اعلی تقررات کے بعد ترقی میں بھی مسلم عہدیدار نظر انداز

   

آئی اے ایس کی حیثیت سے ترقی کیلئے سفارش کردہ 25 ناموں میں ایک بھی مسلم شامل نہیں

حیدرآباد۔9۔فروری(سیاست نیوز) مسلم عہدیداروں کی ترقی میں حکومت کے رویہ اور مسلم عہدیداروں کے ساتھ سلوک کو دیکھتے ہوئے کہا جا رہاہے کہ برسراقتدار جماعت کو اب مسلمانوں کی کوئی پرواہ نہیںہے اور وہ خود نہیں چاہتی کہ مسلم عہدیداروں کی قلت کو دور کیا جائے ۔ تلنگانہ میں مسلمانوں سے ناانصافیوں کا سلسلہ جاری ہے اور بیشتر شعبہ جات میں مسلمانو ںسے ناانصافی کے باوجود آواز اٹھانے والا کوئی نہیں ہے۔ حکومت میں برسر کار عہدیداروں کو آئی اے ایس عہدیدار کے طور پر ترقی دینے میں گذشتہ یوم جاری احکام میں کسی مسلم عہدیدار کا نام شامل نہیں ہے اور جو فہرست تیار کی گئی اس میں 25 عہدیداروں کے نام تھے ۔ ان میں ایک بھی مسلم نام کی سفارش نہیں کی گئی ۔ 10 عہدیداروں کو آئی اے ایس عہدہ پر ترقی دینے اقدامات کئے گئے لیکن سفارش کردہ 25ناموں میں کوئی مسلم نام شامل نہیں تھا تو کسی مسلم عہدیدار کو ترقی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔اسی طرح ڈی ایس پی عہدہ پر موجود پولیس عہدیداروں کو ترقی کا اعلان کیا گیا لیکن ان کو زیر التواء رکھا گیا ۔ذرائع کے مطابق ترقیات کی فہرست سے بھی مسلم عہدیداروں کو دور رکھا جا رہا ہے اور ایسا لگ رہا کہ ریاست میں حکومت غیر معلنہ مسلمانوں سے ناانصافیوں کو فروغ دے رہی ہے۔ مختلف اداروں میں مسلمانوں سے ناانصافیوں کی کئی مثالیں ہیں جن میں جامعات میں مسلم وائس چانسلر کا تقرر‘ تلنگانہ پبلک سروس کمیشن میں مسلم رکن کو نمائندگی نہ دیا جانا ‘ ٹی ایس ایس پی ڈی سی ایل میں مسلم ڈائرکٹرکے تقرر کو نظرانداز کیا جانا ‘ تلنگانہ اقلیتی کمیشن کے قیام کو نظرانداز کیا جانا اوردیگر شامل ہیں لیکن اب محکمہ جاتی سطح پر بھی مسلم عہدیداروں کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے اور کئی عہدیداروں کو جو اہم عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں ترقیات میں نظرانداز کرنے کی شکایات ہیں ۔ کہا گیا کہ منتخبہ عوامی نمائندوں کی جانب سے اڈہاک ترقیات میں نمائندگیوں کو نظرانداز کرکے چیف منسٹر کے دفتر میں موجود عہدیدار من مانی فیصلے کر رہے ہیں اور مسلم عہدیداروں کی ترقیات کے معاملوں کو نظراندازکیا جارہا ہے۔