افغانستان میں زلزلہ: امداد کیلئے عالمی برادری سے طالبان کی اپیل

,

   

بارش کے باعث بچاؤ کاموں میں دشواریاں ۔ ٹینٹ ، کمبل اور ادویات پر مشتمل 7 ٹرک متاثرین کیلئے دستیاب

کابل : افغان طالبان نے ملک میں ہولناک زلزلے کے بعد عالمی برادری سے امداد کی اپیل کردی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق افغانستان کے مشرقی صوبے پکتیکا میں آنے والے 6.1 شدت کے زلزلے کے نتیجے میں اب تک ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں جب کہ 1500 سے زائد زخمی ہیں۔افغان حکام نے زلزلے کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔افغان حکومت نے زلزلے کے بعد ایک ہنگامی اجلاس میں امدادی کاموں کے لیے 100 ملین افغانی (1.1 ملین ڈالر) کی منظوری دی لیکن افغانستان کی موجودہ معاشی صورتحال کے باعث زلزلہ متاثرین کے امدادی کاموں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق افغان طالبان کے سپریم لیڈر نے اس صورتحال میں عالمی برادری سے مدد کی اپیل کی ہے۔افغان طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ اخونزادہ نے کہا کہ ہم عالمی برادری، تنظیموں اور بحرانی کیفیت میں کام کرنے والی ایجنسیوں سے اس تباہ کن صورتحال میں افغان عوام کی مددکی اپیل کرتے ہیں لہٰذا اس صورتحال میں جتنا ممکن ہوسکے افغان عوام کی مدد کی جائے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق افغانستان میں اس زلزلے کو 1998 کے 6.5 شدت کے زلزلے کے بعد بدترین زلزلہ قرار دیا جارہا ہے جس میں 4 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔زلزلے سے متاثرہ علاقے میں زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کے لیے ریسکیو کا کام جاری ہے اور امدادی کارکنوں کو دشواری کا سامنا ہے۔پکتیکا صوبے میں اطلاعات اور ثقافت کے محکمے کے سربراہ محمد امین حذیفہ نے بتایا کہ ’مقامی لوگ ایک کے بعد دوسری قبر کھود رہے ہیں۔‘حکام کے مطابق پاکستان کی سرحد کے ساتھ واقع پکتیکا صوبے میں سب سے زیادہ نقصان ہوا جہاں کم از کم ایک ہزار افراد مارے گئے۔امین حذیفہ نے بتایا کہ زخمیوں کی تعداد ڈیڑھ ہزار سے زیادہ ہے جن میں سے اکثر کی حالت نازک ہے۔صحافیوں سے گفتگو میں اطلاعات اور ثقافت کے محکمے کے سربراہ نے کہا کہ ’لوگ تاحال ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔‘اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کا کہنا ہے ’عالمی ایجنسی مدد کے لیے پوری طرح فعال ہے۔