کئی افراد اوربے گناہ لوگوں پر بچوں کو اٹھانے کا الزام لگاکر شدید مارپیٹ کی
لکھنو ۔ 31 ۔ اگست (سیاست ڈاٹ کام) ایک ہجوم نے دہلی کے ایک رہنے والے اور ایک بھکاری عورت سمیت 6 لوگوں کو بری طرح مارا پیٹا ، اترپردیش میں بچوں کو اٹھائے جانے کے تین واقعات سے متعلق افواہوں میں ہجوم کے ہاتھوں بے گناہ لوگوں کو مار پیٹ برداشت کرنی پڑی ۔ حالانکہ پولیس نے قبل از وقت یہ انتباہ دے دیا تھا کہ جو لوگ غلط افواہیں پھیلائیں گے ان کے خلاف قومی صیانتی ایکٹ کے تحت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اترپردیش میں گزشتہ ہفتے سے بچوں کو اٹھائے جانے کی افواہوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔ حکومت اور پولیس کی کوششوں کے باوجود افواہوں کا سلسلہ بند نہیں ہورہا ہے۔ گزشتہ جمعرات کو ڈائرکٹر جنرل آف پولیس او پی سنگھ نے بتایا کہ بچوں کو اٹھائے جانے کی افواہیں پھیلانے کے الزام میں اب تک 82 افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے ۔ اس کے باوجود بھی ہجومی تشدد کا سلسلہ جاری ہے۔ او پی سنگھ نے بتایا کہ افواہیں پھیلانے والوں کے خلاف نیشنل سیکوریٹی ایکٹ کا استعمال کیا جائے گا ۔ اس قانون کے تحت کسی بھی شخص کو حکام طویل عرصہ تک زیر حراست رکھ سکتے ہیں اور وہ اس کی حراست کے اسباب کا اظہار کرنے کے پابند نہیں ہوتے۔