اسلامک کلچرل سنٹر کا سنگ بنیاد سمیت تمام امور محض کاغذی ، مسلمانوں میں مایوسی
حیدرآباد۔7۔فروری(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ کے بجٹ 2023-24میں ریاستی حکومت کی جانب سے اقلیتوں سے کئے گئے وعدوں اور اعلانات پر عمل آوری کے سلسلہ میں کوئی رقمی تخصیص عمل میں نہیں لائی گئی ہے اور نہ ہی ریاستی حکومت نے اس جانب کوئی توجہ مبذول کی ہے۔ حکومت تلنگانہ نے اقلیت بندھواسکیم‘درگاہ حضرت خواجہ غریب نوازؒ کے زائرین کے لئے رباط کی تعمیر ‘ درگاہ حضرت جہانگیر پیراںؒ کو مذہبی سیاحتی مرکز کے طور پر فروغ دینے کے ترقیاتی کام‘ اسلامک کلچرل سنٹر کی تعمیر کے علاوہ ریاست کے ہر ضلع میں منی حج ہاؤز کی تعمیر اور دیگر کئی اعلانات کئے تھے لیکن بجٹ میں اس میں کسی ایک پراجکٹ کا بھی اعلان نہیں کیا گیا اور نہ ہی ریاستی وزیر فینانس کی تقریر میں ان پراجکٹس کا کوئی تذکرہ کیا گیا ہے۔ تاریخی مکہ مسجد کی تزئین نو اور مرمتی کاموں کے لئے خصوصی بجٹ کی فراہمی کے علاوہ شاہی مسجد باغ عامہ اور مکہ مسجد کے ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بنانے کے بھی اعلانات کئے گئے تھے لیکن حکومت کی جانب سے بجٹ میں ان امور کا کوئی تذکرہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی خصوصی بجٹ کی تخصیص کے اقدامات کئے گئے ہیں۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ایوان اسمبلی میں مجلسی ارکان اسمبلی کی جانب سے متوجہ کروانے پر دونوں تاریخی مساجد کے ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بنانے کے اقدامات کا ایوان میں ہی اعلان کیا تھا لیکن اس اعلان پر کوئی عمل آوری نہیں کی گئی بلکہ اس اعلان کے بعد محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیدارو ںنے ان ملازمین کی خدمات کو عارضی سے برخواست کرتے ہوئے انہیں کنٹراکٹ ملازم بنادیا اور اب تک تمام ملازمین بحالت مجبوری کنٹراکٹ ملازم کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے درگاہ حضرت جہانگیر پیراں ؒکے ترقیاتی کاموں کا سنگ بنیاد رکھا تھا لیکن اب تک ان کا آغاز نہیں ہوپایاہے اسی طرح درگاہ حضرت سید بابا شرف الدین سہروردی ؒ کے لئے ریمپ کی تعمیرکا مسئلہ بھی گذشتہ 8برسوں سے ایوان اسمبلی میں اٹھایا جارہا ہے اور حکومت اس ریمپ کو اندرون چند ماہ مکمل کرنے کا وعدہ کرتی رہی ہے۔ سال 2017 سے کوکاپیٹ میں اسلامک کلچرل سنٹر کے سنگ بنیاد کے سلسلہ میں یقین دہانی کروائی جا رہی ہے۔گذشتہ اسمبلی اجلاس کے دوران چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے دلتوں کو جس طرح سے 10 لاکھ روپئے کاروبار کے لئے ’’ دلت بندھو‘‘ اسکیم کے تحت جاری کئے جا رہے ہیں اسی طرز پر اسکیم ’’اقلیت بندھو ‘‘ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن اس اسکیم کا بھی کوئی تذکرہ ریاستی حکومت کی جانب سے بجٹ میں نہیں کیا گیا۔ حکومت تلنگانہ کے 2018 اسمبلی انتخابات سے قبل ٹی۔پرائیڈ کے طرز پر ریاست میں مسلم نوجوانوں کے لئے ٹی ۔ پرائم اسکیم شروع کرنے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ ہنرمند نوجوانوں کو ریاستی حکومت کی جانب سے صنعتی ترقی کے مواقع فراہم کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے اور انہیں مالی مدد کے ساتھ ساتھ ان کے لئے خصوصی پلیٹ فارم کی فراہمی کے اقدامات کئے جائیں گے۔ بہ حیثیت مجموعی ریاستی حکومت نے تلنگانہ میں مسلمانوں سے کئے گئے بیشتر تمام وعدوں کو عملی طور پر بجٹ2023-24میں مکمل فراموش کردیا ہے۔ م