اقلیتیں مشکل حالات سے دوچار:نواب محبوب عالم خان۔اردو زبان کو زیادہ سے زیادہ عام کریں:محمد اظہر الدین

   

انوار العلوم کالج میں نواب شاہ عالم خاں یادگار کل ہند مشاعرہ۔ اسپیکر گڈم پرساد، پروفیسر رام پنیانی اور دوسروں کا خطاب
حیدرآباد 5 مارچ (پریس نوٹ) انوار العلوم کالج ملے پلی میں 3اپریل کی شب نواب شاہ عالم خان یادگار نواں کل ہند مشاعرہ منعقد ہوا نواب محبوب عالم خان نے اس مشاعرے کی نگرانی کی نواب مجاہد عالم خاں معتمد اعزازی انوار العلوم ایجوکیشنل اسوسی ایشن نے خیرمقدم کیااور اسپیکر اسمبلی گڈم پرساد کمارکے علاوہ وزیر اقلیتی بہبود جناب محمد اظہر الدین ،جناب رام پنیانی ،جناب راج کمار ہاٹی کی گل پوشی اور شال پوشی کی گئی۔ اسپیکر تلنگانہ اسمبلی جناب گڈم پرساد کمارنے اپنی تقریر کا آغاز السلام علیکم سے کرتے ہوئے نواب محبوب عالم خاں کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ مشاعروں سے مجھے کافی دلچسپی ہے اسپیکر اسمبلی نے جناب محبوب عالم خان صاحب سے خواہش کی کہ وہ وقار آباد میں بھی اسی طرح کا ایک مشاعرہ کا اہتمام کریں انہوں نے اپنی جانب سے تمام شعراء کرام کو بھی دلی مبارکباد پیش کی۔ انوارالعلوم ایجوکیشنل ایسوس ایشن کے معتمد اعزازی نواب محبوب عالم خان نے اپنے خطاب میں اسپیکر اسمبلی کے علاوہ وزیر اقلیتی بہبود جناب محمد اظہر الدین، مشیر امور اقلیت تلنگانہ جناب محمد علی شبیر، ممتاز سماجی جہد کار و قلم کار پروفیسر رام پنیانی اور راج کمار بھاٹی کی عوامی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے بطور خاص راج کمار بھاٹی اور رام پنیانی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو بڑی بے جگری کے ساتھ اقلیتوں کا ساتھ دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں سے اقلیتی طبقہ مشکل حالات سے دوچار ہورہا ہے۔ انہوں نے مشاعرے میں شرکت کرنے پر اسپیکر، وزیر اقلیتی بہبود، جناب محمد علی شبیر اور سبھی کا خیرمقدم کیا۔ پروفیسر میمن حاجی سجاد اور پروفیسر احمد بیگ ڈائرکٹر آف انوار العلوم ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنس نے کاروائی چلائی۔ تلنگانہ حکومت کے مشیر برائے اقلیتی امور جناب محمد علی شبیر نے کہا کہ دنیا میں 10 بڑی زبانیں بولی جاتی ہیں جس میں اردو زبان بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام میں سب سے پہلی جو آیت اتری ہے اس میں ہمیں پڑھنے پر ہی زور دیا گیا ہے، آج کل ایک خیال عام ہو گیا ہے کہ اردو پڑھنے سے ملازمت نہیں ملتی جبکہ ایسا خیال غلط ہے ۔ انہوں نے نواب محبوب عالم خان سے خواہش کی کہ وہ انوار العلوم کالج میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس کورس کا بھی آغاز کریں۔ اسلام نے ہمیشہ تعلیم پر زور دیا ہے اور ہمیں موجودہ وقت اور حالات کے تقاضوں کے تحت عصری تعلیم سے بھی واقف ہونا ضروری ہے۔ وزیر اقلیتی بہبود تلنگانہ جناب محمد اظہر الدین نے نواب شاہ عالم خاں مشاعرے میں شرکت پر اپنی مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اردو زبان کو زیادہ سے زیادہ عام کریں۔ انہوں نے اردو والوں پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کو زیادہ سے زیادہ اردو زبان سے رغبت پیدا کریں۔ پروفیسر رام پنیانی نے اپنے فکر انگیز خطاب میں کہاکہ موجودہ دور میں اردو کو کمزور کرنے کے لیے ایک سیاست چل رہی ہے ایسے ماحول میں اردو کے مشاعرے اور اردو کی محفلیں بڑی اہمیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جتنی اہمیت ہندی کی ہے اتنی اہمیت اردو کی بھی ہے انہوں نے کہا کہ سماج میں نفرت ہوتی ہی نہیں بلکہ پھیلائی جاتی ہے۔ پروفیسر رام پنیانی نے ہندو مسلم اتحاد کو زیادہ سے زیادہ مستحکم کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جو لوگ مذہب کے نام پر نفرت پھیلا رہے ہیں، ان کا بائیکاٹ ضروری ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایسی جماعتیں جو نفرت پھیلاتی ہیں ان جماعتوں کا بائیکاٹ کرنا بھی وقت کا تقاضہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ دستور تمام مذاہب کو ہر طرح کی اجازت دیتا ہے اور اگر کوئی کسی کے ساتھ نفرت کرتا ہے تو وہ کسی شخص یا مذہب کے خلاف نفرت نہیں کرتا بلکہ اپنے دستور کی توہین کرتا ہے۔ سوشل میڈیا کی ممتاز و معروف سیکولر شخصیت جناب راجکمار بھاٹی نے کہا کہ ملک کے موجودہ حالات میں نفرت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ پروفیسر میمن حاجی سجاد نے مشاعرے کی نظامت جناب ابرار کاشف کے حوالے کی جناب ابرار کاشف نے سب سے پہلے نواب شاہ عالم خان کو بھرپور خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ آج کا یہ مشاعرہ نواب شاہ عالم خان کے نام سے منسوب ہے ہم سب یہاں پر نواب صاحب اور اردو کی محبت میں جمع ہوئے ہیں۔ انہوں نے اپنے خطاب میں ظالم حکمرانوں کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے کہا کہ ظالم حکمران اپنی چودھراہٹ دکھارہے ہیں، وقت کا تقاضہ ہے کہ ہم ظلم کے خلاف اپنی آواز کو بلند کریں اتحاد قائم رکھیں۔ دنیا ہماری طرف امید بھری نگاہوں سے دیکھ رہی ہے ہمیں دنیا کی امامت کرنی ہے سارے اختلافات کی دیواروں کو ڈھا کر ہمیں سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح ہو جانا ہے نفرتوں کی دیواروں کو ڈھا دینا ہے اور دنیا میں چودھراہٹ کرنے والوں کے سروں کو جھکانا ہے انہوں نے یہ بھی کہا کہ طاقت حق نہیں ہوتی بلکہ حق طاقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مظلوموں کا ساتھ دینا انسانیت کا ساتھ دینا ہے۔ اِس موقع پر کلام سنانے والوں میں صبیحہ تبسم، علیم خان فلکی، شکیل ظہیرآبادی، فاروق شکیل، شاہد عدیلی، حفیظ مبارک پوری، منظر بھوپالی، کرنل ڈاکٹر وی پی خوشبو شرما، ڈاکٹر ندیم شاد، مدن موہن، سردار سلیم، شکیل اعظمی، ڈاکٹر ماجد دیوبندی، لتا حیا، ڈاکٹر نواز دیوبندی قابل ذکر شعراء ہیں جبکہ میمن حاجی سجاد کے شکریہ پر رات دیر گئے تاریخی مشاعرہ کا اختتام عمل میں آیا۔ (V؍M)