ریونت ریڈی ونپرتی میں 6000 کروڑ کی اسکیمات کا آغاز کریں گے ، بینکرس کے ساتھ ڈپٹی چیف منسٹر کا اجلاس
حیدرآباد ۔ 28 ۔ فروری (سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ ریاستی حکومت ایس سی ، ایس ٹی ، بی سی اور ا قلیتی کارپوریشنوں کے ذریعہ خود روزگار اسکیمات پر عمل آوری کو ترجیح دے رہی ہے۔ بھٹی وکرمارکا نے کہا آج بینکرس کے ساتھ اجلاس منعقد کرتے ہوئے سرکاری اسکیمات میں بینکوں کے تعاون کا جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ سابق حکومت نے گزشتہ 10 برسوں میں ویلفیر کارپوریشنوں کو نظرانداز کردیا تھا ۔ ریاستی حکومت کارپوریشنوں کے ذریعہ غریب خاندانوں کو سبسیڈی اور مارجن منی جاری کرنے کے لئے تیار ہے۔ بیروزگار نوجوانوں کی مدد کے لئے بینکوں کو آگے آنا چاہئے ۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی 2 مارچ کو ونپرتی میں 6 ہزار کروڑ مالیت کی خود روزگار اسکیمات کا آغاز کریں گے۔ حکومت کی جانب سے سیلف ایمپلائیمنٹ اسکیمات کے تحت نوجوانوں میں مالی امداد اور اثاثہ جات تقسیم کئے جائیں گے ۔ اسکیمات کے نتیجہ میں ریاست کی جی ڈی پی شرح میں اضافہ ہوگا۔ رائزنگ تلنگانہ کے قیام میں بینکرس کے رول کی اہمیت بیان کرتے ہوئے بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ حکومت نے بین الاقوامی سرمایہ کاری کے لئے کئی اقدامات کئے ہیں۔ اسکل یونیورسٹی اور اڈوانسڈ آئی ٹی آئیز کے قیام کے ذریعہ نوجوانوں کو اسکل ڈیولپمنٹ کورسس میں ماہر بنایا جارہا ہے۔ معیاری برقی اور امن و ضبط کی بہتر صورت حال کے لئے سرمایہ کاری کو راغب کرنے میں مدد ملی ہے۔ ڈاؤس میں1.8 کروڑ کی سرمایہ کاری کے معاہدے کئے گئے ۔ حکومت نے زرعی شعبہ کیلئے 52 ہزار کروڑ مختص کئے ہیں۔ گزشتہ تین ماہ میں کسانوں کے دو لاکھ روپئے تک کے قرضہ جات کی معافی کے ضمن میں 22 ہزار کروڑ کسانوں کے بینک اکاؤنٹس میں جمع کئے گئے جو ملک میں ایک کارنامہ ہے۔ رعیتو بیمہ اسکیم کے تحت 1500 کروڑ اور رعیتو بھروسہ اسکیم کے تحت 11,500 کروڑ جاری کئے گئے ۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے موسی ریور فرنٹ اور حیدرآباد میٹرو پراجکٹ کا حوالہ دیا اور کہا کہ حیدرآباد کو عالمی شہر کا درجہ دلانے کیلئے حکومت مساعی کر رہی ہے ۔ موسیٰ ندی کے متاثرین کو بلا سودی قرض فراہم کئے جائیں گے تاکہ وہ کاروبار شروع کرسکیں۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ حیدرآباد کے اطراف ریجنل رنگ روڈ سے نئی صنعتوں کے قیام میں مدد ملے گی۔1