مودی نے ملک کے اقلیتوں کیلئے جو بجٹ منظور کیا کے سی آر نے اس کا 71 فیصد بجٹ تلنگانہ کے اقلیتوں کیلئے مختص کیا
حیدرآباد ۔ 7 ۔ فروری : ( سیاست نیوز ) : ٹی آر ایس کے رکن قانون ساز کونسل فاروق حسین نے اقلیتی بجٹ کو بڑھاکر 2022 کروڑ روپئے کردینے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت نے ملک کے اقلیتوں کے لیے جو بجٹ پیش کیا ہے اس کا 71 فیصد بجٹ چیف منسٹر کے سی آر نے ریاست تلنگانہ کے اقلیتوں کے لیے پیش کیا ہے ۔ فاروق حسین نے بتایا کہ این ڈی اے حکومت قومی سطح پر اقلیتوں کو نظر انداز کررہی ہے ۔ صرف سب کا ساتھ سب کا وکاس کا نعرہ دیا جارہا ہے ۔ مگر ملک کی دوسری بڑی آبادی اقلیت کو سیاسی ، سرکاری و سماجی شعبوں میں فراموش کیا جارہا ہے ۔ جب کہ بی آر ایس کے سربراہ و چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر اقلیتوں کے ساتھ بھر پور انصاف کررہے ہیں ۔ فلاحی اسکیمات اور ترقیاتی پروگرامس میں اقلیتوں کو حصہ دار بنایا جارہا ہے ۔ گذشتہ 8 سال کے دوران اقلیتوں کی ترقی فلاح و بہبود کے لیے 8581 کروڑ روپئے خرچ کئے گئے ہیں ۔ اس طرح کی نظیر ملک کی دوسری ریاستوں میں کہیں دیکھنے کو نہیں ملتی ۔ ریاست میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کی سماجی ، معاشی اور تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے کے لیے مختلف پروگرامس کئے جارہے ہیں ۔ 203 مینارٹیز ریسیڈنشیل اسکولس قائم کئے گئے ہیں اور ان میں چند اسکولس کو جونیر کالجس میں تبدیل کیا گیا ہے ۔ ریاست کے ہر ضلع ہیڈکوارٹر میں منی حج ہاوز تعمیر کئے جارہے ہیں ۔ ائمہ و موذنین کو ماہانہ مشاہراہ دیا جارہا ہے ۔ وقف جائیدادوں کے تحفظ کے لیے موثر اقدامات کئے جارہے ہیں جس کی جتنی ستائش کی جائے کم ہے ۔۔ ن