اقامتی اسکولوں کیلئے 300 کروڑ، ائمہ و مؤذنین اعزازیہ کیلئے 120 کروڑ کی منظوری، اردو اکیڈیمی، حج کمیٹی کے بجٹ میں اضافہ، فیس بازادائیگی کیلئے 300کروڑ کی گنجائش
حیدرآباد۔/19 مارچ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے مالیاتی سال 2025-26 کیلئے محکمہ اقلیتی بہبود کو جملہ 3591 کروڑ بجٹ مختص کیا ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا کی جانب سے پیش کردہ بجٹ میں اقلیتی بہبود کی اسکیمات کیلئے 2846 کروڑ مختص کئے گئے جبکہ اسٹابلشمنٹ اخراجات کے تحت 745 کروڑ کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ گذشتہ سال کے مقابلہ اقلیتی بجٹ میں1391 کروڑ کا اضافہ کیا گیا ہے۔ حکومت نے اقلیتی کمیشن کیلئے جملہ 1.22 کروڑ بجٹ مختص کیا ہے جس میں کمیشن کے ملازمین کی تنخواہیں اور دفتری امور کی تکمیل شامل ہے۔ اقلیتی بہبود کے ضلعی دفاتر کیلئے 9.84 کروڑ بجٹ مختص کیا گیا۔ اقلیتوں کی سماجی اور معاشی صورتحال کا جائزہ لینے سے متعلق اسکیم کیلئے بجٹ میں 8.82 کروڑ کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ سرکاری ہاسٹل کیلئے 12.88 لاکھ روپئے مختص کئے گئے۔ تلنگانہ میناریٹی اسٹڈی سرکل کیلئے 37.01 لاکھ فراہم کئے گئے ہیں۔ اردو اکیڈیمی کی امداد کے طور پر 65.56 لاکھ مختص کئے گئے۔ مکہ مسجد اور شاہی مسجد کے انتظامات مینٹننس کیلئے 65 لاکھ کی منظوری دی گئی۔ اوقافی جائیدادوں کے اڈمنسٹریشن کے تحت 13.02 لاکھ اور وقف ٹریبونل کیلئے 2.15 کروڑ مختص کئے گئے۔ تلنگانہ حج کمیٹی کے ملازمین کی تنخواہ اور دیگر امور کیلئے گرانٹ اِن ایڈ کے طور پر 2.12 کروڑ مختص کئے گئے۔ تلنگانہ اقلیتی اقامتی اسکول سوسائٹی کے لئے بجٹ میں جملہ 695.46 کروڑ کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ ٹریننگ اینڈ ایمپلائمنٹ اسکیم کیلئے بجٹ میں 30 لاکھ کی گنجائش فراہم کی گئی ہے۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن کے تحت ایم ایس بی پی پروگرام کیلئے 33.34 لاکھ ۔ شادی مبارک اسکیم کیلئے 650 کروڑ، راجیو یووا وکاسم اسکیم کیلئے 840 کروڑ مختص کئے گئے۔ نئی اسکیم کے تحت اقلیتوں کو قرضہ جات کی اجرائی کے سبب بینکوں سے مربوط سبسیڈی اسکیم کیلئے بجٹ مختص نہیں کیا گیا۔ اقلیتی طلبہ کے اسکالر شپ کیلئے 120 کروڑ اور فیس باز ادائیگی اسکیم کیلئے 300 کروڑ مختص کئے گئے۔ اردو گھر؍ شادی خانوں کی تعمیر کیلئے 12 کروڑ مختص کئے گئے۔ تلنگانہ میناریٹی اسٹڈی سرکل کیلئے 4 کروڑ، پری میٹرک اسکالر شپ 1.73 کروڑ ، دائرۃ المعارف 3 کروڑ، ائمہ اور مؤذنین کے اعزازیہ کیلئے 120 کروڑ ، سنٹر فار ایجوکیشن ڈیولپمنٹ آف میناریٹیز CEDM کیلئے 3 کروڑ، حج کمیٹی کی گرانٹ اِن ایڈ کے طور پر 4 کروڑ، مکہ مسجد اور شاہی مسجد کی نگہداشت اور مرمتی کاموں کیلئے 3.3 کروڑ، سرکاری دعوت افطار کیلئے 3.28 کروڑ مختص کئے گئے۔1