حج ہاوز میں وی ۔ ہب کے ذریعہ تربیتی کورسیس کا منصوبہ دھرا کا دھرا رہ گیا
حیدرآباد۔25۔ستمبر(سیاست نیوز) ریاست میں اقلیتوں کی ترقی سے کسی محکمہ کو دلچسپی نہیں ہے اور جو عہدیدار و محکمہ جات اقلیتوں کی معاشی و تعلیمی ترقی کی دہائی دیتے ہیں وہ دراصل اپنی کرتوتوں پر پردہ ڈالنے مسلمانوں کی جھوٹی ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حج ہاؤز کی عمارت میں اقلیتی خواتین کیلئے We-Hub کے ذریعہ تربیتی کورسس اور روزگار سے مربوط کورسس کی تربیت کے ساتھ دورحاضر کے تجارتی اصولوں سے واقف کرواتے ہوئے روزگار فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا تھا لیکن اس منصوبہ کو ترک کردیا گیا ۔ حج ہاؤز کی بالائی منزلوں پر سہولتوں سے استفادہ کیلئے مسٹر جئیش رنجن نے دورہ کرکے تفصیلات حاصل کی تھیں اور اعلان کیا تھا کہ خواتین کیلئے مخصوص وی۔ہب کے تعاون سے حج ہاؤز میں اقلیتی خواتین کیلئے مرکز کیا آغاز کیا جائے گا تاکہ انہیںروزگار سے مربوط کورسس کی تربیت کے علاوہ مناسب رہبری اور رہنمائی سے کاروبار کیلئے مدد فراہم کی جاسکے لیکن اعلان کے کئی ماہ کے بعد بھی سرگرمی نہ رہنے پر جب دریافت کیا گیا تو انکشاف ہوا کہ اعلیٰ عہدیداروں کے عدم تعاون و عدم دلچسپی کے سبب وی۔ہب کے ذمہ داروں نے اقلیتی خواتین کیلئے مخصوص مرکز کے منصوبہ کوترک کردیا ۔ ذرائع کے مطابق حکومت کے ادارہ وی۔ہب نے اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کی عدم دلچسپی کے سبب اس منصوبہ کو ترک کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس ادارہ کے ذریعہ مسلم خواتین اور لڑکیوں کی تربیت کے انتظامات پر ان کی اختراعی صلاحیتو ںکو ابھارنے کا موقع ملنے کے علاوہ وی۔ہب کے ذریعہ ان ی صنعت کاری کی صلاحیتوں کو بھی پروان چڑھایا جاسکتا تھا۔ اقلیتی بہبود عہدیداروں کی جانب سے وی۔ہب حکام کے دعوے کو مسترد کرکے کہا جار ہاہے کہ محکمہ کی پیشکش کے باوجود متعلقہ حکام نے کوئی پیشرفت نہیں کی۔ سرکاری محکمہ جات اور اداروں کے الزامات و جوابی الزامات سے اقلیتوں کی ترقی نہیں ہوگی بلکہ ایسے منصوبوں سے اقلیتوں کی ترقی کیلئے مواقع پیدا کرنے کی بجائے انہیں تعطل کا شکار بنایا جاتا رہے گا جو کہ مخالف اقلیت نظریات کا ثبوت ہے۔م