اقلیتی فینانس کارپوریشن کی اسکیمات کو گزشتہ چار برسوں سے مفلوج

   

بجٹ کی عدم اجرائی ، آئندہ دو برسوں میں تمام ملازمین سبکدوش،حکومت اور عہدیداروں کی سرد مہری
حیدرآباد: تلنگانہ میں اقلیتوں کی بھلائی سے متعلق اسکیمات پر عمل آوری سے حکومت اور اعلیٰ عہدیداروں کو کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔ اقلیتی اداروں کی مجموعی صورتحال انتہائی ابتر ہے اور تمام اسکیمات ٹھپ ہوچکی ہیں۔ اداروں پر حکومت کی عدم نگرانی اور عہدیداروںکی عدم دلچسپی کے نتیجہ میں مالی بے قاعدگیوں کی اطلاعات ملی ہیں۔ اقلیتوں کی معاشی ترقی سے متعلق اہم اسکیمات اقلیتی فینانس کارپوریشن کے تحت لیکن گزشتہ چار برسوں سے کارپوریشن ایک مفلوج ادارہ میں تبدیل ہوچکا ہے ۔ حکومت فنڈس کی اجرائی سے گریز کر رہی ہے جس کے نتیجہ میں اسکیمات پر عمل آوری نہیں ہوسکی۔ گزشتہ چار برسوں سے صرف تنخواہوں کیلئے بجٹ جاری کیا جارہا ہے اور عملہ کی کمی کا یہ عالم ہے کہ آئندہ تین برسوں میں کارپوریشن کے تمام مستقل ملازمین وظیفہ پر سبکدوش ہوجائیں گے اور اس کے بعد شائد کارپوریشن کو کسی اور ادارہ میں ضم کرنا پڑے گا ۔ کارپوریشن کے تحت بینکوں سے مربوط سبسیڈی فراہم کرنے کی اسکیم کے تحت 153906 درخواستیں آن لائین طلب کی گئی تھیں لیکن گزشتہ 4 برسوں میں صرف 10452 درخواستوں کی یکسوئی کی گئی جس کے تحت 83.07 کروڑ روپئے جاری کئے گئے ۔ سبسیڈی کی اسکیم کے تحت آٹو اور کار کی تقسیم شامل ہیں۔ 143454 درخواستیں 2015-16 سے زیر التواء ہیں اور امیدوار کارپوریشن کے دفتر کے چکر کاٹتے ہوئے تھک چکے ہیں۔ حکومت نے بینکوں سے کسی تعلق کے بغیر 50,000 روپئے تک امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا تاکہ غریب مسلمان چھوٹے کاروبار شروع کرسکیں لیکن یہ اسکیم فنڈس کی کمی کا شکار ہوگئی۔ بتایا جاتا ہے کہ ٹریننگ ایمپلائیمنٹ اسکیم کے علاوہ اردو کمپیوٹر سنٹرس و لائبریریز بھی غیر کارکرد ہوچکے ہیں۔ ایک بھی شعبہ میں ٹریننگ کا آغاز نہیں کیا گیا۔ گزشتہ چار سال سے کمپیوٹر سنٹرس میں ٹریننگ نہیں دی گئی اور فیکلٹیز اور دیگر عملہ کو تنخواہیں جاری ہیں۔ کارپوریشن کیلئے منظورہ ملازمین کی تعداد 66 ہے اور فی الوقت صرف 17 مستقل ملازمین برسر کار ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ 2023-24 تک تمام مستقل ملازمین وظیفہ پر سبکدوش ہوجائیں گے۔ کارپوریشن کے 92 آؤٹ سورسنگ ملازمین ہے۔ حکومت نے ضلعی سطح پر اگزیکیٹیو ڈائرکٹرس کے عہدوں کو ختم کردیا ہے جو کارپوریشن کی اسکیمات پر عمل آوری کی نگرانی کرتے تھے۔ یہ ذمہ داری میناریٹی ویلفیر آفیسرس کو دی گئی ہے۔ کارپوریشن میں کئی اہم عہدے خالی ہیں۔ صدرنشین کی میعاد گزشتہ سال ختم ہوگئی جبکہ مینجنگ ڈائرکٹر کی اضافی ذمہ داری کرسچین کارپوریشن کے مینجنگ ڈائرکٹر کو دی گئی ہے۔ جنرل مینجر ، کمپنی سکریٹری ، فینانس مینجر ، اکاؤنٹس آفیسرس اور دو اسسٹنٹ جنرل مینجر کے عہدے خالی ہیں۔ تین ریجنل آفیسرس میں دو عہدے مخلوعہ ہیں۔ کارپوریشن نے حکومت کو تجویز پیش کی تھی کہ اسکیمات پر عمل آوری کیلئے 300 ملازمین کا تقرر کیا جائے۔ کارپوریشن کے پاس ابتداء میں 18 اسکیمات تھیں جو اب گھٹ کر صرف تین باقی رہ چکی ہیں۔