حیدرآباد ،11 جون (سیاست نیوز) عالیہ بھٹ کی آنے والی بالی ووڈ فلم الفاکا ٹیزر سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا اور فلمی حلقوں میں ایک دلچسپ بحث جاری ہے۔ کئی مبصرین نے کہا ہے کہ خواتین جاسوسوں اور ایکشن ہیروز پر مبنی یہ فلم ہالی ووڈ کی مقبول فرنچائز چارلیز اینجلز کی یاد دلاتی ہے۔ اگرچہ دونوں پروجیکٹس مختلف ادوار اور فلمی صنعتوں سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن ان کے درمیان بعض ایسی مماثلتیں موجود ہیں جنہوں نے اس موازنے کو تقویت دیتا ہے۔ ہالی ووڈ میں چارلیز اینجلز نے خواتین ایکشن فلموں کی تعریف بدل دی تھی۔ 2000 اور 2003 کی فلموں میں کیمرون ڈیاز، ڈریو بیری مور اور لوسی لیو نے ایسی خواتین ایجنٹس کا کردار ادا کیا جو نہ صرف ذہین اور خودمختار تھیں بلکہ خطرناک مشنزکو کامیابی سے انجام دینے کی صلاحیت بھی رکھتی تھیں۔ اس وقت ایکشن سینما زیادہ تر مرد ہیروزکے گرد گھومتا تھا، اس لیے تین خواتین کو مرکزی ایکشن کرداروں میں پیش کرنا ایک غیرمعمولی تجربہ سمجھا گیا۔ دوسری جانب الفا بھی خواتین کرداروں کو ایکشن اور جاسوسی کی دنیا کے مرکز میں لے آتی ہے۔ الفا میں عالیہ بھٹ اور شرواری واگھ کو محض معاون کرداروں کے طور پر نہیں بلکہ تربیت یافتہ سوپر ایجنٹس کے روپ میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ پہلو چارلیز اینجلزکے بنیادی تصور سے بہت مماثلت رکھتا ہے جہاں خواتین کردارکسی مرد ہیرو کے سائے میں نہیں بلکہ خود مشن کی قیادت کرتی ہیں۔دونوں فلمی منصوبوں میں ایک اور دلچسپ مماثلت خفیہ تنظیم کا تصور ہے۔ چارلیز اینجلز میں خواتین ایجنٹس ایک پراسرار نیٹ ورک کے لیے کام کرتی ہیں، جبکہ الفا میں بھی ایک خفیہ تربیتی پروگرام دکھایا گیا ہے جو خصوصی ایجنٹس تیارکرتا ہے۔ یہی عنصر ناظرین کو دونوں فلموں کے درمیان تعلق محسوس کرواتا ہے۔ایکشن مناظر کے اعتبار سے بھی مماثلت دیکھی جا سکتی ہے۔ چارلیز اینجلز اپنی مارشل آرٹس، ہینڈ ٹو ہینڈکمبیٹ، تیز رفتار تعاقب اور اسٹائلائزڈ فائٹ سیکوینسز کے لیے مشہور تھی۔ الفا کے ٹیزر میں بھی عالیہ بھٹ کو مخالفین سے براہ راست لڑتے، خطرناک اسٹنٹس کرتے اور جسمانی ایکشن میں حصہ لیتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔