الیکٹورل بانڈ پر سپریم کورٹ کی پابندی، بی جے پی کو 6565 کروڑ کی آمدنی

   

کانگریس 1123کروڑ سے دوسرے نمبر پر، ترنمول کو تیسرا مقام، ڈونیشن کے غیر دستوری طریقہ کار پر سپریم کورٹ کی برہمی
حیدرآباد ۔ 15 ۔ فروری(سیاست نیوز) الیکٹورل بانڈ کے ذریعہ سیاسی پارٹیوں کو رقومات کا عطیہ دینے کے طریقہ کار پر سپریم کورٹ نے روک لگادی ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ سے بی جے پی پر سب سے زیادہ اثر پڑسکتا ہے کیونکہ الیکٹورل بانڈ اسکیم کو متعارف کرنے کے بعد سے گزشتہ 6 برسوں میں 50 فیصد سے زائد رقم بی جے پی کے کھاتہ میں جمع ہوئی ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق 2017 سے 2023 تک بی جے پی کو الیکٹورل بانڈ سے 6565 کروڑ روپئے حاصل ہوئے ہیں جبکہ کانگریس 1123 کروڑ کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے مالیاتی سال 2023-24 میں سیاسی پارٹیوں کی سالانہ رپورٹ کی اجرائی باقی ہے لیکن مارچ 2018 اور جنوری 2024 کے درمیان الیکٹورل بانڈ کی فروخت سے جملہ 16513 کروڑ حاصل ہوئے ہیں۔ سپریم کورٹ نے الیکٹورل بانڈ اسکیم کو غیر دستوری قرار دیا اور سیاسی پارٹیوں کو بے نامی افراد کی جانب سے فنڈس کی فراہمی پر روک لگادی ہے۔ عدالت نے اسٹیٹ بینک آف انڈیا کو ہدایت دی ہے کہ 12 اپریل 2019 ء میں عدالت کے عبوری احکامات سے آج تک الیکٹورل بانڈس کی خریدی کی تفصیلات الیکشن کمیشن آف انڈیا کو پیش کریں۔ نریندر مودی حکومت نے 2 جنوری 2018 کو اسکیم کا آغاز کیا تھا جس کے تحت کوئی بھی ہندوستانی شہری الیکٹورل بانڈس خرید سکتا ہے۔ انفرادی یا اجتماعی طورپر بانڈس خریدے جاسکتے ہیں۔ الیکٹورل بانڈ دراصل سیاسی پارٹیوں کو رقمی عطیات کی فراہمی کا متبادل طریقہ کار ہے۔ سیاسی پارٹیوں کی جانب سے الیکشن کمیشن آف انڈیا کو پیش کردہ اکاؤنٹ اسٹیٹمنٹ کے مطابق 2017-18 سے 2022-23 تک بی جے پی کو 6565 کروڑ الیکٹورل بانڈ سے حاصل ہوئے ہیں۔ بعض علاقائی پارٹیوں کو بھی اس سے فائدہ ہوا ہے۔ مغربی بنگال کی برسر اقتدار ترنمول کانگریس کو 1093 کروڑ حاصل ہوئے۔ بی جے پی اور کانگریس کے بعد وہ تیسرے نمبر پر ہے۔ اڈیشہ کی برسر اقتدار بیجو جنتا دل نے 2018-19 سے 2022-23 تک 774 کروڑ حاصل ہونے کا دعویٰ کیا ہے ۔ یہ پارٹی 2000 ء سے اڈیشہ میں برسر اقتدار ہے۔ ٹاملناڈو کی ڈی ایم کے کو تین برسوں میں الیکٹورل بانڈ سے 617 کروڑ حاصل ہوئے۔ تلنگانہ کی بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) کو 2018-19 ء سے 384 کروڑ حاصل ہوئے جبکہ تلگو دیشم پارٹی کو 147 کروڑ عطیات ملے ہیں۔ دہلی اور پنجاب میں برسر اقتدار عام آدمی پارٹی نے 94 کروڑ حاصل ہونے کا دعویٰ کیا ہے ۔ اس رقم میں الیکٹورل بانڈ کی رقم کی وضاحت نہیں ہے۔ بہار میں کئی برسوں سے برسر اقتدار جنتا دل یونائٹیڈ کو 2019 ء سے 2022 ء تک 24 کروڑ حاصل ہوئے۔ غیر برسر اقتدار پارٹیوں میں این سی پی کو 64 کروڑ حاصل ہوئے اور یہ پارٹی غیر برسر اقتدار پارٹیوں میں سرفہرست ہے۔ الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق 2017-18 سے 2021-22 کے دوران فروخت الیکٹورل بانڈ کی مالیت 9208.23 کروڑ ہے جس میں بی جے پی کو 5271.97 کروڑ حاصل ہوئے جبکہ کانگریس کو 952.29 کروڑ کی آمدنی ہوئی۔ ترنمول کانگریس 767.88 کروڑ کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔ 1