واشنگٹن : امریکہ نے مصر کے لیے ایک اورب 30کروڑڈالر کی فوجی امداد کی منظوری دے دی۔ میڈیا کے مطابق بائیڈن انتظامیہ اپنے اتحادی مصر میں انسانی حقوق سے متعلق خدشات کے باوجود امداد کی منظوری دیتے ہوئے فوجی امداد سے منسلک انسانی حقوق کی شرائط کو منسوخ کردیا۔ بائیڈن انتظامیہ نے اپنے دور اقتدار میں ایسا قدم پہلی بار اٹھایا ہے۔ یہ اعلان ایسے وقت میں ہوا ہے کہ جب واشنگٹن غزہ جنگ کے خاتمہ کے لیے قاہرہ پر بہت زیادہ انحصار کر چکا ہے۔ مصر کے لیے مختص ایک ارب 30کروڑ ڈالر کی فوجی امداد میں سے صرف 32 کروڑ ڈالر مشروط ہیں۔ امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کانگریس کو بتایا کہ امریکہ رواں برس مصر کو انسانی حقوق کے ریکارڈ سے منسلک ساڑھے 22کروڑ ڈالر کی سرٹیفکیشن کی شرط سے مستثنیٰ کر دے گا۔ ترجمان نے کہا کہ یہ فیصلہ علاقائی امن کے فروغ ، مصر کی جانب سے امریکی قومی سلامتی کی ترجیحات ،خاص طور پر غزہ جنگ بندی کا معاہدہ طے کرانے ، یرغمالوں کی گھر واپسی ، ضرورت مند فلسطینیوں کے لیے انسانی ہمدردی کی امداد بڑھانے اور اسرائیل حماس تنازعہ کے پائیدار خاتمہ میں مدد کے لیے ا س کی مخصوص اور مسلسل کوششوں کی وجہ سے کیا گیا ہے۔ دوسری جانب مشرق وسطیٰ کے لیے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کی کمیٹی کے سر براہ کرس مرفی نے کہا کہ واشنگٹن نے ماضی میں انسانی حقوق کی بنیاد پر مصر کی فوجی امداد روک دی تھی۔یہ کوئی راز کی بات نہیں ہے کہ مصر بدستور مطلق العنان ملک ہے اور مجھے ان شرائط سے استثنا دے کر اس حقیقت کو نظر انداز کرنے کی کوئی معقول وجہ نہیں دکھائی دیتی۔