اگست26 کو نیپال میں آنے والے سیلاب کے نتیجے میں کم از کم 1,451 افراد ہلاک اور 6,000 سے زائد لاپتہ ہو گئے تھے۔
واشنگٹن: امریکہ نے نیپال کے لیے 31 ملین ڈالر کی امداد کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پلوں کی تعمیر، متاثرہ برادریوں کی شہری ضروریات کو پورا کرنا اور مستقبل میں آفات کے بعد بحالی کی کوششوں میں مدد کے لیے ڈرونز کی فراہمی میں معاونت کرنا ہے۔
سیاسی امور کے لیے انڈر سیکریٹری آف اسٹیٹ ایلیسن ہوکر نے منگل کے روز نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر نیپال کے وزیر خارجہ شسیر کھنال سے ملاقات کے بعد اس اعلان کا اظہار کیا۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ایک بیان کے مطابق، ہوکر نے نیپال میں تباہ کن سیلاب سے متاثرہ تمام افراد سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا، جن میں تقریباً 70 ایسے امریکی شہریوں کے اہل خانہ بھی شامل ہیں جن کا اب تک کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
ملاقات کے دوران، ہوکر نے کانگریس کے ساتھ مل کر مستقل اور خصوصی طور پر تیار کردہ پلوں کی فراہمی کے لیے 10 ملین ڈالر کی امداد دینے کے منصوبوں کا اعلان کیا؛ یہ پل امریکہ ایک امریکی کمپنی سے حاصل کر رہا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ پل متاثرہ علاقوں میں نقل و حمل کے اہم بنیادی ڈھانچے کو بحال کریں گے اور علاقائی رابطوں کو مضبوط بنائیں گے۔
انڈر سیکریٹری نے متاثرہ برادریوں کو پانی، صفائی ستھرائی اور حفظان صحت کے ساتھ ساتھ رہائش، تحفظ، روزگار اور موسمِ سرما سے نمٹنے کے لیے اضافی 8 ملین ڈالر کی امداد فراہم کرنے کے منصوبوں کا بھی اعلان کیا۔
محکمہ مستقبل میں آفات کے بعد بحالی کی کوششوں میں بہتر معاونت کے لیے امریکہ میں تیار کردہ ڈرونز کی مد میں 13 ملین ڈالر کی امداد فراہم کرنے کا بھی ارادہ رکھتا ہے۔
امداد کے اس اعلان کے بعد نیپال میں سیلاب سے نمٹنے اور بحالی کی کوششوں کے لیے امریکہ کی کل امداد 36 ملین ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ نیپال کی حکومت کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے گا تاکہ ان علاقوں کی نشاندہی کی جا سکے اور وہاں اضافی امداد پہنچائی جا سکے جہاں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
اگست26 کو تبت کے ساتھ سرحد کے قریب نیپال کے علاقے ‘راسوواگڑھی’ میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں کم از کم 1,451 افراد ہلاک اور 6,000 سے زائد لاپتہ ہو گئے تھے۔