’امریکہ کو کیسے جواب دیا جائے‘ ڈرون حملے کے بعد طالبان کی مشاورت

   

کابل : افغانستان کے دارالحکومت کابل میں امریکی ڈرون حملے میں القاعدہ رہنما ایمن الظواہری کی ہلاکت کے بعد طالبان رہنما سر جوڑ کر بیٹھ گئے ہیں کہ امریکہ کو اس کا جواب کیسے دیا جائے۔برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ بدھ کو بھی ایک اہم اجلاس کابل میں ہوا۔خیال رہے اتوار کو کابل پر ڈرون حملے کے بعد امریکی حکام کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ القاعدہ رہنما ایمن الظواہری کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ اپنی رہائش گاہ کی بالکونی میں کھڑے تھے۔اس واقعے کو ایک دہائی قبل القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی پاکستان کے شہر ایبٹ ا?باد میں ہلاکت کے بعد طالبان جنگجوؤں کے لیے اہم دھچکا اور امریکہ کی اہم کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق ایک سینیئر امریکی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ’امریکہ افغانستان میں القاعدہ کے مزید ارکان کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھے گا اور یقینی بنایا جائے گا امریکہ پر دہشت گرد حملوں کے لیے اس ملک کو پھر سے استعمال نہ کیا جا سکے۔‘ان کا مزید کہنا تھا ’ہم ہوشیار رہیں گے اور جہاں ضروری ہو گا کارروائی کریں گے، جیسا کہ ہم نیرواں ہفتے کیا ہے۔