رام مندر چندہ چوری کیس: چمپت رائے کیخلاف مقدمہ کا مطالبہ

,

   

ایودھیا کے وکلا کا احتجاجی مارچ ‘ملزمین کا تحفظ کرنے اور جانبداری کا پولیس پر الزام

نئی دہلی ۔2؍جولائی ( ایجنسیز) ایودھیا کی رام مندر کے چندہ چوری کے معاملے پر تنازعہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ فیض آباد بار ایسوسی ایشن کے صدر کالیکا پرساد مشرا کی قیادت میں جمعرات کو سینکڑوں وکلا نے شہر میں احتجاجی مارچ نکالا اور بعد ازاں پولیس سپرنٹنڈنٹ کے دفتر پہنچ کر شری رام جنم بھومی تیرتھ کشیتر ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری چمپت رائے، ٹرسٹی انل مشرا اور گوپال راؤ کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کیلئیتحریری درخواست پیش کی۔ وکلا نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کی جانچ مرکزی تفتیشی ادارے اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ سے بھی کرائی جائے۔احتجاجی مارچ کے دوران وکلا نے الزام لگایا کہ رام مندر چندہ چوری معاملے میں جن افراد کے خلاف سوالات اٹھائے جا رہے ہیں ان کے خلاف اب تک کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ مظاہرین نے اتر پردیش پولیس پر جانبداری کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ افراد کو تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے ان کے خلاف قانونی کارروائی آگے نہیں بڑھ رہی۔کالیکا پرساد مشرا نے کہا کہ رام مندر جیسے انتہائی محفوظ مقام پر اگر اتنے بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں تو اس کی ذمہ داری صرف متعلقہ افراد پر ہی نہیں بلکہ پولیس پر بھی عائد ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ معاملے میں بڑی مالی رقم شامل ہونے کے سبب انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کو بھی فوری طور پر متحرک ہونا چاہیے تاکہ مالی بے ضابطگیوں کی غیر جانبدارانہ جانچ ممکن ہو سکے۔انہوں نے اس معاملے کی مرکزی تفتیشی ادارے سے مکمل جانچ کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر پولیس ایف آئی آر درج نہیں کرتی تو قانون کے مطابق دیگر قانونی راستے اختیار کیے جائیں گے۔