واشنگٹن: ایک امریکی اہلکار نے پیر کے روز اعلان کیا کہ امریکہ اقوام متحدہ میں اپنی قرارداد کے مسودے میں کسی بھی ترمیم کو ووٹنگ سے پہلے ویٹو کر دے گا۔ اس قرار داد میں یوکرین اور روس کے درمیان جنگ کے خاتمے کا مطالبہ کیا جائے گا۔وزارت خارجہ کے اہلکار نے صحافیوں کو بتایا کہ اگر روسی ترمیم سلامتی کونسل میں ہمارے سامنے پیش کی جاتی ہے تو ہم اس کے خلاف اپنا ویٹو استعمال کریں گے، اگر یورپی ترامیم سلامتی کونسل میں پیش کی گئیں تو ہم اس کے خلاف اپنا ویٹو استعمال کریں گے۔ اہلکار نے یہ بھی کہا کہ صدر ٹرمپ کی انتظامیہ سلامتی کونسل پر توجہ مرکوز کر رہی ہے نہ کہ روسی حملے کی تیسری برسی کے موقع پر جنرل اسمبلی میں سابق ووٹ پر۔انہوں نے مزید کہا کہ مقصد یہ ہے کہ قرارداد کو کسی بھی شور سے دور، مختصر اور ان بنیادی باتوں پر مبنی رکھا جائے جو صدر ہم سے کرانا چاہتے ہیں جو امن کے حصول کیلئے اقوام متحدہ کو استعمال کرنا ہے۔ قبل ازیں واشنگٹن نے یوکرین اور روس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یوکرین میں جنگ کے خاتمے کیلئے اس کے منصوبے کی حمایت کریں۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اس تنازعے کے آغاز کے تین سال مکمل ہونے کے موقع پر امریکی قرارداد کے مسودے پر ووٹنگ کیلئے تیار ہے۔اقوام متحدہ میں امریکی سفیر ڈوروتھی شی نے کہا ہے کہ امریکہ کی طرف سے پیش کردہ قرارداد کا مسودہ اسی نکتے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ہم نے جو مسودہ قرارداد پیش کیا ہے اس میں تنازعات کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ یوکرین اور روس کے درمیان دیرپا امن پر بھی زور دیا گیا اور کہا گیا کہ اب یہی ضرورت ہے۔ ہم یوکرین اور روس سمیت تمام رکن ممالک سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس کوشش میں شامل ہوں۔ایک سفارتی ذریعہ کے مطابق سلامتی کونسل کے چار یورپی یونین کے ارکان اور برطانیہ روس کو جارحیت کرنے والا اور یوکرین کی علاقائی سالمیت پر اصرار کرنے کیلئے متن میں ترمیم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ سابق امریکی صدر بائیڈن نے یوکرین کی علاقائی سالمیت پر زور دیا اور روس کو تنہا کرنے کی کوشش کی لیکن ٹرمپ نے امریکی موقف تبدیل کرتے ہوئے ماسکو کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی تجویز پیش کی ہے۔