امریکہ ۔ ایران دوسرے دور کی امن بات چیت غیر یقینی

,

   

امریکہ ناقابل بھروسہ ۔ جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام ۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کا بیان

اسلام آباد 20 اپریل ( سیاست نیوز ) امریکہ اور ایران کے مابین مستقل جنگ بندی کیلئے دوسرے دور کی امن بات چیت پر غیریقینی کیفیت پیدا ہوگئی ہے جبکہ دونوں ہی جانب سے کچھ کارروائیاں کی گئی ہیں۔ امید کی جار ہی تھی کہ فریقین آئندہ دنوں میں اسلام آباد میں ملاقات کرتے ہوئے جنگ بندی کے تعلق سے بات چیت کریں گے ۔ پاکستان نے دوسرے دور کی امریکہ ۔ ایران بات چیت کیلئے وسیع تر سکیوریٹی انتظامات کئے ہیں۔ دونوںملکوں کے مابین دو ہفتوں کی جنگ بندی چہارشنبہ 22 اپریل کو ختم ہو رہی ہے ۔ آج پیر کو ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ان کے ملک نے ابھی تک امریکہ کے ساتھ آئندہ دور کی بات چیت میں حصہ لینے کے تعلق سے فیصلہ نہیں کیا ہے ۔ ترجمان نے کہا موجودہ حالات میں امریکہ کے ساتھ بات چیت ممکن نہیں ہے ، امریکہ ماضی سے سبق نہیں سیکھ رہا، امریکی پالیسیوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی جس کے نتائج بھی بہتر نہیں ہوں گے ۔ ایران کی وزارت خارجہ کے مطابق امریکہ کی غلطیوں کا تسلسل خطے کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے ، غلط پالیسیوں سے کبھی مثبت نتائج نہیں نکل سکتے ، امریکہ کی روش خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے رہی ہے ۔ ترجمان نے کہا کہ امریکہ کے اقدامات خطے میں استحکام کی بجائے بحران بڑھا رہے ہیں، امریکہ میڈیا کے ذریعے متضاد بیانات دے رہا ہے جب کہ ہم نے ایک ہی مؤقف رکھا ہے ، ہماری شرائط لاجک پر مبنی ہیں اور کچھ میڈیا ایسا دعویٰ کر رہا ہے جس کا اصل سے کوئی تعلق نہیں۔ اسماعیل بقائی نے کہا امریکہ پر کوئی بھروسہ نہیں کر سکتا، وہ اب بھی غیر حقیقی مطالبات پر انحصار کر رہا ہے ، ماضی میں بھی امریکہ نے معاہدوں کے منافی اقدامات کیے ۔ امریکہ نے بحری ناکہ بندی جاری رکھ کر جنگ بندی کی خلاف ورزی کی، امریکی اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ سفارت کاری میں ان کی دل چسپی نہیں ہے ، ایسے میں ایران اپنے مفادات کا تحفظ جاری رکھے گا۔ ترجمان نے کہا کہ ایران کے قومی مفادات کسی ملک کی بدمعاشی پر قربان نہیں کر سکتے ، پاکستان کو بطور ثالث امریکہ کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں سے آگاہ کر دیاگیا ہے ۔