جسٹس (ریٹائرڈ) مارکنڈے کاٹجو
کچھ لوگ امریکی عوام کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہیں اور یہ تنقید اس لئے کی جاتی ہے کہ امریکہ نے ویٹنام ، عراق وغیرہ میں کیا گل کھلائے لیکن رارقم ا لحروف امریکیوں کی تعریف کرتا ہے ، ان کے مداحوں میں شامل ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکہ نے جارج واشنگٹن ، تھامس جیفرسن ، ابراہم لنکن اور کئی ایک عظیم شخصیتوںکو پیدا کیا ۔ جب کبھی میں ان شخصیتوں کے نام سنتا ہوں مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کے احترام میں ، میں جھک سا گیا ہوں۔ زمین پر اپنے گھٹنے ٹکائے ، دونوں ہاتھ جوڑے اور انہیں سلام کرنے احتراماً اپنا سر جھکایا ہوں۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ امریکیوں سے بھی کچھ غلطیاں سرزد ہوئی ہیں لیکن کونسا ملک غلطی نہیں کرتا ؟ کونسی قوم غلطیوں کی مرتکب نہیں ہوتی۔ ان سب میں راقم عظیم امن پسند شخصیت DEKANAWIDA کو میں زیادہ قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھتا ہوں، جنہوں نے سنیکا ، موہاک ، اوننڈاگا ، اونیڈا اور کے پو گام جیسے متحارب قبائل کو نہ صرف متحد کیا بلکہ ان کے درمیان امن قائم کیا۔ ان ہی کی کاوشوں کے نتیجہ میں IROQUOIS CONFEDERACY وجود میں آئی جو صدیوں قائم رہی اور امن و امان کا باعث بنی۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ IROQUOIS CONFEDERACY ایک پر اثر و طاقتور سیاسی و فوجی اتحاد تھا جسے مذکورہ 5 قبائل کو جوڑ کر تشکیل دیا گیا تھا اور پھر 1722 میں اس اتحاد میں ایک اور قبیلہ TUSCARORA بھی شامل ہوگیا۔ میں اکثر امریکہ جایا کرتا ہوں اور میری جس امریکی سے بھی ملاقات ہوتی وہ بہت ہی اچھا شخص باالفاظ دیگر عمدہ شخص نکلا۔ ہمارے اطراف و اکناف ایسے بہت سے لوگ ہیں جو سیاہ فام باشندوں کے ساتھ ناروا سلوک کیلئے امریکی باشندوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے رہے۔ مثال کے طورپر منی پولیس منی سوٹا میں ایک سفید فام پولیس عہدیدار کے ہاتھوں جارج فلاٹہ نامی ایک سیاہ فام امریکی کے قتل نے امریکہ بھر میں ہلچل مچادی تھی ۔ یہ واقعہ 2020 کو پیش آیا تھا ، اس ضمن میں ایک واقعہ سنانا یا اس واقعہ کے بارے میں بتانا چاہوں گا ۔کچھ عرصہ قبل 20 امریکیوں کے ایک وفد نے دہلی کا دورہ کیا اور اس وفد سے خطاب کیلئے مجھے مدعو کیا گیا ۔ اس وفد میں سارے کے سارے سفید فام باشندے تھے اور ان میں نصف خواتین تھیں۔ ان میں ماہرین قانون ، ڈاکٹرس سماجی جہد کار یہاں تک کہ ایک پولیس عہدیدار بھی شامل تھا ۔ دوسری باتوں کے ساتھ میں نے اپنے خطاب میں کہا کہ امریکہ میں سیاہ فام باشندوں کی حالت زار میں کافی بہتری آئی ہے لیکن امریکی وفد نے میرے اس خیال سے اتفاق نہیں کیا۔ حالانکہ وہ تمام سفید فام باشندے تھے۔ بہرحال امریکہ کی ترقی اور خوشحالی کی وجوہات میں ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ امریکہ امیگرینٹس کا ملک ہے ۔ یہ وہ ملک ہے جہاں کئی یوروپی ملکوں کے ساتھ ساتھ چین ، ہندوستان ، افریقہ ، میکسیکو وغیرہ سے لوگ ہجرت کر کے آئے اور تمام نے اس ملک کو اپنے علم ، اپنی صلاحیتوں ، اپنے ہنر ، تکنیکی مہارت اور اپنے عظیم تہذیبی و ثقافتی اقدار سے سجایا سنوارا اور امریکہ کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اس امریکہ میں تنوع ہی اس کی بڑی طاقت بن گیا جبکہ ہم ہندوستانی جہاں بہت زیادہ تنوع پایا جاتاہے کثرت میں وحدت سے متعلق بڑی بڑی باتیں اور بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں۔ امریکیوں پر تنقید کرنے سے پہلے ہمیں امریکیوں سے کچھ سیکھنا ہوگا جہاں تک امریکیوں کے اچھے ہونے کی بات ہے ۔ امریکہ میں جس امریکی سے بھی میری ملاقات ہوئی ان تمام کو میں نے بہتر انسان پایا۔ بہت مہذب و معتبر پایا ۔ یہ اور بات ہے کہ یہی تاثر میرا امریکی حکومت کے بارے میں نہیں ہوسکتا یعنی میں یہی بات امریکی حکومت کے بارے میں نہیں کہہ سکتا۔ فرانسیسی فلاسفر (1712-1778) Rousseau کا بنیادی عقیدہ ہے جنہیں میں اپنا اتالیق مانتا ہوں۔ وہ کہتے ہیں کہ مرد بنیادی طور پر بہت ہی اچھی فطرت کے ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس برطانوی فلاسفر Thomas Hobbes کا ماننا تھا کہ مرد بنیادی طور پر گندی فطرت کے ہوتے ہیں جہاں تک Rousseau کے قول اور ان کے عقیدہ و ایقان کا سوال ہے امریکہ میں یہ سچ ثابت ہورہا ہے جہاں اسرائیل کی امریکی حکومت کی جانب سے بھرپور تائید و حمایت اور Goebbelsian پروپگنڈہ کے باوجود امریکی عوام سچائی جان رہے ہیں اور ان میں اسرائیل کی بہ نسبت فلسطینی عربوں کے تئیں تائید و حمایت میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ اسرائیل فلسطینیوں پر کسی قدر بدترین ظلم ڈھا رہا ہے ۔ فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کے بارے میں اس مضمون اور ویڈیو میں راقم نے تفصیل سے بتایا ہے۔ دوسری طرف امریکی سنیٹ میں سماعت کے دوران مظاہرین کے جو ویڈیوز منظر عام پر آئے ، ان ویڈیوز نے مجھے اس بات پر قائل کیا کہ امریکہ اچھے اور مہذب شہریوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔ امریکیوں نے یہ ثابت کیا کہ وہ کمزور ملکوں اور غریب لوگوں پر بمباری کر کے انہیں تباہ کرنے کی ہرگز تائید وحمایت نہیں کرتے۔ وہ اس بات میں بھی یقین نہیں رکھتے کہ عام تباہی کے ہتھیاروں کی موجودگی کا بہانہ بناکر ملکوں پر قبصہ کیا جائے یا اسرائیل وغیرہ جیسی فاشسٹ ریاستوں کی تائید کی جائے ۔ آپ کو بتادیں کہ ہاروڈ یونیورسٹی کی 31 طلبہ تنظیموں نے جنوبی ایشیاء بالخصوص فلسطینیوں کی موجودہ حالت زار کیلئے اسرائیل کی شدید مذمت کی ۔ ان تنظیموں نے ایک مکتوب میں لکھا کہ عداوتیں ، نفرتیں ایک دو دن میں پیدا نہیں ہوتی بلکہ اس کیلئے برسوں درکار ہوتے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں فلسطینیوں کا جینا دوبھر کر کے غزہ کو ایک اوپن جیل میں تبدیل کردیا ۔ انہیں جانوروںکی طرح زندگی گزارنے پر مجبور کردیا گیا ۔ اسی طرح Yale ، اسٹانعورڈ ، کولمبیا اور دوسری جامعات کے طلبہ نے ہارورڈ یونیورسٹی طلبہ کی زبردست تائید کی ۔ ایسا ہی کچھ ویٹنام جنگ کے دوران ہوا جس کی بے شمار امریکیوں نے بڑی بہادری کے ساتھ مخالفت کی۔ (فارمن مورین نامی ایک شخص نے بطور احتجاج خود کو آگ لگائی تھی) یہاں تک کہ امریکی سابق فوجیوں نے ویٹنام جنگ کے خلاف احتجاجی مظاہرے منظم کئے۔ امریکیوں نے عراق اور افغانستان پر ناجائز و غیر منصفانہ قبضوں کی مخالفت کرتے ہوئے احتجاج کیا تھا ۔ اگرچہ امریکیوں نے کئی غلطیوں کا ارتکاب کیا لیکن ان لوگوں نے ہمیشہ اپنی غلطیوں کو سدھارا۔