امریکی فرم ہنڈنبرگ ریسرچ بند کرنے کا اعلان

   

کمپنی کے بندہونے کا طلب الزامات سے کلین چٹ نہیں:جئے رام رمیش
نئی دہلی: ہندوستانی ارب پتی گوتم اڈانی کی کمپنیوں کے خلاف اپنی متنازعہ مالیاتی رپورٹس کی وجہ سے خبروں میں آنے والی امریکی فرم ہنڈن برگ ریسرچ کے بانی نے اچانک اپنی فرم کو بند کرنے کا اعلان کردیا ہے ۔کمپنی کے بانی اور معروف سیکیورٹیز مارکیٹ بیئر شارٹ سیلر نیٹ اینڈرسن نیچہارشنبہ کو کمپنی کی ویب سائٹ پر ہنڈنبرگ ریسرچ کو بند کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی چھوٹی لیکن مشہور فرم ہنڈن برگ ریسرچ کو بند کر رہے ہیں۔ اینڈرسن نے 2017 میں کمپنی شروع کی تھی۔ انہوں نے کمپنی کی ویب سائٹ پر اپنے فیصلے کے بارے میں لکھا کہ اس کے پیچھے کوئی خاص یا ذاتی وجہ نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کوئی خاص بات نہیں ہے ‘کوئی خاص خطرہ نہیں ، صحت کے مسائل نہیں ہیں اور کوئی بڑا ذاتی مسئلہ نہیں ہے ۔ قابل ذکر ہے کہ ہنڈنبرگ ریسرچ نے اڈانی اور جیک ڈورسی اور کارل آئیکاہن جیسے کاروباری اداروں کی کمپنیوں کو نشانہ بنایا تھا۔ہنڈنبرگ کی رپورٹس نے اڈانی گروپ کی کمپنیوں پر الزام لگایا تھا کہ وہ اپنے حصص کی مارکیٹ کی قیمتوں کو بڑھانے کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاری میں مبینہ طور پر ہیرا پھیری کر رہے ہیں۔ ان رپورٹس میں ہندوستانی اسٹاک مارکیٹ ریگولیٹر سیبی کی موجودہ سربراہ کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ اڈانی گروپ اور سیبی نے ہنڈن برگ کی رپورٹوں کو آدھا سچ، من گھڑت، بدنیتی پر مبنی اور ذاتی مفاد پر مبنی پروپیگنڈہ قرار دے کر مسترد کر دیا ہے ۔ کانگریس نے جمعرات کو کہا کہ ہنڈنبرگ ریسرچ کو بند کرنے کا مطلب کسی بھی طرح سے مودانی کو کلین چٹ نہیں ہے ۔ ایک بیان میں کانگریس کے ترجمان جے رام رمیش نے کہا کہ جنوری 2023 کی ہنڈنبرگ رپورٹ اتنی سنگین ثابت ہوئی کہ سپریم کورٹ آف انڈیا کو اڈانی گروپ کے خلاف اس میں لگائے گئے الزامات کی جانچ کے لیے ایک ماہر کمیٹی قائم کرنے پر مجبور ہونا پڑا جس کے سرپرست کوئی اور نہیں بلکہ ہندوستان کے موجودہ وزیر اعظم ہیں۔