امن و ضبط کی برقراری میں تلنگانہ پولیس کو نمبر ون مقام حاصل: بھٹی وکرمارکا

   

پولیس ڈیوٹی میں امتیازی سلوک کی مخالفت، خاتون پولیس عہدیداروں کی کانفرنس سے خطاب
حیدرآباد ۔ 22 ۔ اگست (سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ تلنگانہ حکومت ویمن پولیس کی بھلائی کے عہد کی پابند ہے اور خاتون پولیس عہدیداروں کی تین روزہ کانفرنس میں حکومت کو پیش کردہ تجاویز پر عمل کیا جائے گا ۔ بھٹی وکرمارکا پولیس اکیڈیمی میں خاتون پولیس عہدیداروں کی تین روزہ کانفرنس کے اختتامی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ تقررات کے وقت چونکہ جنس کی بنیاد پر کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا جاتا ، لہذا ڈیوٹی کی انجام دہی میں امتیاز درست نہیں ہے۔ انہوں نے ویمن پولیس سے لفظ ویمن کو ہٹائے جانے سے متعلق سفارش کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ یہ بہتر تجویز ہے ۔ بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ وہ ریاستی حکومت کی جانب سے اس تجویز کی تائید کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تقررات میں جنس کی بنیاد پر کوئی امتیاز نہیں ہے تو پھر عہدیداروں اور ڈیوٹی کے معاملہ میں امتیازی سلوک مناسب نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاتون اسٹاف کی جانب سے یونیفارمس اور دیگر سہولتوں کے بارے میں نمائندگی درست ہے اور حکومت خاتون پولیس عہدیداروں کے مسائل کی جلد یکسوئی کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے خاتون پولیس عہدیداروں کے مسائل پر حکومت کو رپورٹ پیش کی جاتی ہے تو اس پر عمل کیا جائے گا۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح عوام کی ضروریات کی تکمیل ہے اور سرکاری ملازمین کے مسائل کے حل میں حکومت سنجیدہ ہے۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی اور ریاستی کابینہ کا رویہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ہے۔ ریاست کی ترقی کیلئے سرمایہ کاری کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ ترقی کیلئے مضبوط لاء اینڈ آرڈر ضروری ہے اور لاء اینڈ آرڈر کی بہتری پولیس عہدیداروں کی خدمات پر منحصر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت کی تشکیل کے بعد کئی فیسٹولس اور پروگرامس منعقد کئے گئے اور پولیس نے غیر معمولی انتظامات کئے ۔ امن و ضبط کی برقراری میں تلنگانہ کو ملک میں نمبر ون پولیس کا مقام حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس عہدیداروں کو انفرادی مسائل کے علاوہ دفاتر کی عمارتوں ، پولیس اسٹیشنوں اور اسٹاف کوارٹرس جیسی ضرورتوں کے بارے میں بھی نمائندگی کرنی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت 200 کروڑ کی سرمایہ کاری سے 104 اسمبلی حلقوں میں 25 ایکر پر انٹیگریٹیڈ اقامتی اسکولس کے قیام کا منصوبہ رکھتی ہے۔ نوجوانوں کیلئے ینگ انڈیا اسکلس یونیورسٹی قائم کی گئی ۔1