حیدرآباد۔ 6 نومبر (سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ میں کیا پھر ایک مرتبہ رہائشی امکنہ جات کی اراضیات کو باقاعدہ بنانے کے اقدامات کا آغاز ہونے جارہا ہے ؟ پرنسپل سکریٹری کے تازہ اور سرکاری طور پر ضلع کلکٹرس کو جاری کردہ احکامات سے اس بات کا اشارہ مل رہا ہے ۔ سرکاری خزانے کو بھرنے کے لئے کیا یہ اقدامات کئے جارہے ہیں؟ جس کے ذریعہ شہریوں کو دوبارہ موقع حاصل ہوگا۔ ریاستی حکومت کی جانب سے بجٹ میں بنائے گئے آمدنی کے ذریعہ 45 ہزار کروڑ کا نشانہ پورا کرنے کا اہم ذریعہ اراضیات کی نیلامی اور اراضیات کو باقاعدہ بنانے کا اقدام تصور کیا جارہا ہے۔ اس ضمن میں غیر مجاز لے آؤٹس کو باقاعدہ بنانے کے اقدامات کا آغاز کرتے ہوئے خاطر خواہ آمدنی کا نشانہ مقرر کیا گیا تھا۔ تاہم ایل آر ایس کے متعلق عدالتوں میں مقدمات کے پیش نظر تقریباً 30 ہزار درخواستیں تاحال یکسوئی کی منتظر ہیں۔ درخواست گذاروں کی جانب سے گزشتہ میں ایک ہزار روپے ادا کرتے ہوئے رجسٹریشن کروایا گیا۔ حالیہ دنوں حکومت کی جانب سے اراضیات کی نیلامی کے ذریعہ کچھ حد تک آمدنی کو حاصل کیا گیا۔ ایل آر ایس کی درخواستیں کی جی او 166 کے تحت ایک لاکھ 44 ہزار درخواستیں حاصل کی گئیں اور جی او 59 کے تحت حاصل شدہ 50 ہزار سے زائد درخواستوں پر توجہ دینے کا حکومت نے فیصلہ لیا ہے۔ اس ضمن میں ضلع کلکٹرس کو احکامات جاری کئے گئے جس کے وہ ضلعی سطح پر غیر مجاز لے آؤٹس امکنہ جات کی اراضیات کو باقاعدہ بنانے کے لئے داخل کردہ درخواستوں، پلاٹس، گراما کنٹھم اراضیات اسائنڈ اراضیات کی مکمل تفصیلات فراہم کریں۔ ریاستی حکومت کے اسپیشل چیف سکریٹری مسٹر اروند کمار کی جانب سے یکم نومبر کو تمام ضلع کلکٹرس کے لئے میمو جاری کیا گیا اور مذکورہ تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت دی گئی۔ سلینگ اراضیات کے علاوہ جی او 166 کے تحت 2008 میں حاصل کردہ درخواستیں جو تاحال یکسوئی کی منتظر ہیں ان کی تفصیلات بھی روانہ کرنے کی ہدایت دی گئی۔ اس طرح جی او 58 اور 59 کے تحت سال 2014 میں حاصل کردہ درخواستوں کی تفصیلات کی نشاندہی کا حکم دیا گیا۔ اسائنڈ اراضیات کی تفصیلات کا باضابطہ اس میمو میں اشارہ دیا گیا ہے۔ سابق میں حکومت کی جانب سے جاری کردہ اراضی پٹہ کے باوجود آج ان اراضیات کو ممنوعہ اراضیات کی فہرست میں شامل کردیا گیا۔ ایسی اراضیات کے ساتھ انڈومنٹ، وقف، فاریسٹ و دیگر محکموں کو مختص کردہ اراضیات کے لیز فری ہولڈ جائیدادوں کے متعلق مکمل تفصیلات کو فراہم کرنے کی میمو میں ضلع کلکٹرس کو ہدایت دی گئی۔ سرکاری احکامات کے بعد ضلع کلکٹرس 33 اضلاع میں شہری علاقوں کے علاوہ منڈل سطح پر ریونیو حدود کے لحاظ سے تفصیلات کو جمع کیا جارہا ہے۔ اسپیشل چیف سکریٹری نے ان تمام تفصیلات کو ایک پروفارما کی شکل میں روانہ کرنے کی ہدایت دی۔ بالخصوص ضلع، منڈل، سروے نمبر، ریونیو حدود، مقامی علاقہ، توسیع، فی گز قیمت، استفادہ کنندہ کی تعداد کلکٹرس کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات پر عنقریب منعقد ہونے والے کابینی اجلاس میں غور کیا جائے گا۔ امکان ہے کہ بہت جلد ان تمام کی تفصیلات کو چیف منسٹر کے حوالے کیا جائے گا۔ اس بات کے قوی امکانات بتائے جارہے ہیں۔ کابینی اجلاس کے بعد ان تمام درخواستوں کو باقاعدہ بنانے ٹیکس اور اسیسمنٹ کا موقع فراہم کیا جاسکتا ہے؟ ع