متولیان اپنا ریکارڈ محفوظ رکھیں، سپریم کورٹ فیصلہ کا انتظار: قاسم رسول الیاس
حیدرآباد۔ 16 جولائی (سیاست نیوز) آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے مرکزی حکومت کے امید پورٹل پر وقف املاک کے رجسٹریشن کی مخالفت کی اور کہا کہ مسلمانوں کو اوقافی جائیدادوں کے رجسٹریشن سے اس وقت تک گریز کرنا چاہئے جب تک وقف ترمیمی قانون پر سپریم کورٹ کا واضح فیصلہ نہ آجائے۔ بورڈ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ متنازعہ وقف ترمیمی قانون کی منظوری کے بعد ملک کے مختلف علاقوں حتی کہ دیہات سطح پر احتجاجی پروگرام منظم کئے گئے۔ وقف ترمیمی قانون کے خلاف مسلم پرسنل لا بورڈ سرگرم عمل ہے۔ بورڈ کے ترجمان اور وقف بچاؤ دستور بچاؤ مہم کے کنوینر ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے بیان میں کہا کہ مسلم پرسنل لا بورڈ کی کوششوں سے کئی ریاستوں میں مسلمانوں میں مہم جاری رکھی ہے۔ جلسوں میں بورڈ کی قیادت کے علاوہ ارکان پارلیمنٹ، سیاسی و سماجی تنظیموں کے رہنما شریک ہیں۔ جلسوں کے علاوہ برادران وطن کی ذہن سازی کے لئے بڑے شہروں میں راؤنڈ ٹیبل اجلاس منعقد کئے گئے جن میں سیاسی و سماجی قائدین اور سیول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔ تحفظ اوقاف مہم کے پہلے مرحلہ کا 13 جولائی کو اختتام عمل میں آیا اس کے بعد تمام ریاستی کنوینرس کے ساتھ اجلاس منعقد کیا گیا جس میں اب تک کی مہم کا جائزہ لینے کے بعد آئندہ مراحل کے لئے تجاویز اور مشورے طلب کئے گئے۔ پرسنل لا بورڈ بہت جلد عاملہ کی منظوری کے بعد دوسرے مرحلہ کا روڈ میاپ جاری کرے گا۔ کنوینر تحفظ اوقاف نے اس بات پر زور دیا کہ امید وقف پورٹل میں وقف املاک کو اس وقت تک رجسٹر نہ کیا جائے جب تک اس قانون پر سپریم کورٹ کا واضح فیصلہ نہ آجائے۔ حکومت وقف بورڈ کے صدور نشین اور عہدیداروں کے ذریعہ متولیان پر دباؤ بنا رہی ہے کہ وہ وقف املاک کو فی الفور امید پورٹل پر رجسٹر کریں۔ کہا جارہا ہے کہ اگر یہ کام 6 ماہ میں مکمل نہیں کیا گیا تو وقف املاک کو نقصان ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وقف ترمیمی قانون سپریم کورٹ میں زیر بحث ہے جس کے خلاف کئی درخواستیں داخل ہوچکی ہیں۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ تمام متولیان اور وقف بورڈ صدور نشین سے اپیل کرتا ہے کہ وہ امید پورٹل پر وقف املاک کے رجسٹریشن کے لئے عوام پر دباؤ نہ بنائیں۔ متولیان سے اپیل کی گئی کہ وہ وقف املاک سے متعلق تمام ضروری دستاویزات حاصل کرکے محفوظ رکھیں۔ قاسم رسول الیاس نے کہا کہ ملک کے عوام کی اکثریت نے وقف ترمیمی قانون کی مخالفت کی ہے۔ انہیں امید ہے کہ پارلیمنٹ اور اس کے باہر بل کے خلاف جدوجہد جاری رہے گی۔ 1